جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ایسی وزارتوں پر تھوکتے بھی نہیں جہاں عزت نہ ہو قومی اسمبلی اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین حکومت پر پھٹ پڑے

datetime 29  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین حکومت پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ایسی وزارتوں پر تھوکتے بھی نہیں جہاں عزت نہ ہو،حکومتی پنجوں سے اپوزیشن کے بینچوں پر جانے میں دیر نہیں لگتی ،قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو تلاوت،نعت اور ترانے کے بعد ایم کیو ایم کے

اراکین اپنی بات کرنے کیلئے کھڑے ہو گئے ایم کیو ایم کے رکن صابر قائم خانی نے نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم منتخب ہو کر آئے ہیں ہمیں کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ہے میرے حلقے کے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ میرے حیدرآباد میں ریلوے کا جو حال ہے اور سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں،تین ماہ میں پی آئی اے کا آفس بند ہوچکا ، ریلوے ختم ہوگئی اور وزیر آتے نہیں ہیں ہمیں ان سیٹوں کی وجہ سے عزت ملی ورنہ ہم تھوکتے بھی نہیں میں اس وجہ اس ایوان سے واک آؤٹ کر رہا ہوں جن سیٹوں پر ہم بیٹھے ہیں وہاں سے دوسری طرف آتے دیر نہیں لگتی۔ رکن اسمبلی صلاح الدین نے کہا کہ ہم نے اپ کی حمایت کی بھاری قیمت ادا کی ہے،ہم عہدوں پر لعنت بھیجتے ہیں ہم ایوان سے واک آوٹ کرتے ہیں، ایم کیو ایم کے اراکین کو ن لیگ کے اراکین اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی اور سابق سپیکر ایاز صادق نے روک لیا اور ان سے مذاکرات شروع کر دیئے اور ان کو واک آؤٹ کرنے سے روک لیا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشہ نے کہا کہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں کہ بجٹ میں تبدیلی کیوں کی گئی ہم نے زیادہ براہ راست ٹیکس لگایا گیا ہے آئی ایم ایف کی وجہ سے فنانس بل میں تبدیلیاں آئی، یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا تھا سابقہ حکومت ان شرائط سے پیچھے ہٹ گئی تھی ۔ ہم نے وہی تبدیلیاں کی اور اس طرح کی کہ عام آدمی کو ریلیف ملے اپوزیشن کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری حکومت نے کیوں نہیں کیا یہ کوئی بچوں کا میچ نہیں ہو رہا کہ میں نہیں مانتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…