مولانا قومی اسمبلی فلور پر اپنے والد سے کیا گیا سلوک یاد رکھیں انکے والد کو ۔۔۔چوہدری شجاعت نے فضل الرحمن کوبڑا مشورہ دیدیا

7  اپریل‬‮  2022

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ (ق )کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ کو جارحانہ انداز میں پیش کیا، وہ قومی اسمبلی فلور پر اپنے والد سے کیا گیا سلوک یاد رکھیں، ان کے والد کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا۔ ایک بیان میں

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اس واقعے میں مفتی محمود زخمی بھی ہوئے تھے، اس طرح کا کوئی واقعہ پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں آیا، پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اسمبلیوں میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، ایسے واقعات کو حل کرنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے ممبران نے اسمبلی کے اندر قیمتی اشیا کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے، جب تک ہال کی مرمت نہیں کی جاتی ایوان اجلاس کرنے کے قابل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانچ مرتبہ اسمبلی ممبر رہا، واقعات ہوجاتے ہیں یہ تو معمولی بات ہے، ممبران کو اپنے لیڈروں کی اس حد تک جاکر اطاعت نہیں کرنی چاہیے، لیڈر اپنے مقصد کیلئے ان سے دوسرے ممبران کو گالیاں دلواتے ہیں۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نوجوان ارکان اسمبلی ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں۔خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہا تھا کہ عمران خان نے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کردیا ہے، تحریک انصاف کے نوجوانوں کو بھڑکایا جارہا ہے، آئمہ اور خطبا اپنے خطبوں میں عمران خان کی آئین شکنی پر بات کریں۔

موضوعات:



کالم



ہم بھی کیا لوگ ہیں؟


حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…