منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کورونا کے خطرے کو 90 فیصد کم کرنیوالی اینٹی وائرل گولی مارکیٹ میں آنے کے لیے تیار

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے بتایا ہے کہ وہ اپنی تجرباتی اینٹی وائرل کووڈ 19 دوا کو 95 غریب اور متوسط ممالک میں تیار کرنے کی اجازت دے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ یہ ممالک اس دوا کو انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ گروپ میڈیسینز پیشنٹ پول (ایم پی پی)کے ساتھ لائسنسنگ معاہدے

کے تحت تیار کرسکیں گے۔فائزر اور ایم پی پی کے درمیان اس معاہدے سے اقوام متحدہ کے زیرتحت اس گروپ کی جانب سے اہل دوا ساز کمپنیوں کو سب لائسنس فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے طور پر پی ایف 07321332 تیار کرسکیں۔فائزر کی جانب سے ان گولیوں کو پیکسلویڈ برانڈ کے نام سے فروخت کیا جائے گا۔فائزر کے مطابق کلینکل ٹرائل میں اس کی تیار کردہ دوا کووڈ سے متاثر ہونے پر بالغ افراد میں ہسپتال میں داخلے یا موت کا خطرہ 89 فیصد تک مثر دریافت ہوئی تھی۔اس دوا میں ایک ایچ آئی وی دوا ریٹوناویر کے ساتھ استعمال کیا جائے گا جو پہلے ہی عام دستیاب ہے۔فائزر کی جانب سے لائسنسنگ معاہدہ اس وقت کیا گیا جب مرک این کو کی جانب سے اس کی تیار کردہ اینٹی وائرل کووڈ دوا کے حوالے سے اسی طرح کا معاہدہ کیا گیا۔دونوں کمپنیوں کے معاہدے غیرمعمولی ہیں جو کووڈ کے حوالے سے مثر علاج سست داموں فراہم کرنے کی ضرورت کی اہمیت بھی ظاہر کرتے ہیں۔ایم پی پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چارلس گور نے

بتایا کہ ہم کووڈ 19 سے لوگوں کو بچانے کے لیے اپنے اسلحہ خانے میں ایک اور ہتھیار کی شمولیت پر بہت خوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ فائزر دوا کا جنرک ورژن آئندہ چند ماہ میں دستیاب ہوگا۔فائزر اور ایم پی پی نے بتایا کہ معاہدے کے تحت جن 95 ممالک کو اس حصہ بنایا گیا ہے وہ دنیا کی 53 فیصد آبادی پر مشتمل ہے اور ان میں غریب،

کم آمدنی والے متوسط اور کچھ زیادہ آمدنی والے متوسط ممالک شامل ہیں۔فائزر کے چیف ایگزیکٹیو البرٹ بورلا نے بتایا کہ ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ لوگ چاہے جیسے بھی حالات میں زندگی گزار رہے ہوں، انہیں بریک تھرو علاج تک رسائی حاصل ہو۔فائزر کی جانب سے کم آمدنی والے ممالک سے دوا کی فروخت میں رائلٹی نہیں لی جائے گی اور

معاہدے میں شامل دیگر ممالک کو بھی یہ سہولت اس وقت تک دستیاب ہوگی جب تک کووڈ 19 عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا جائے گا۔فائزر کی اس دوا کی طلب کافی زیادہ ہے اور کمپنی کے مطابق وہ دسمبر 2021 کے آخر تک ایک لاکھ 80 ہزار کورس تیار کرنے کی توقع کررہی ہے جبکہ 2022 کے آخر تک کم از کم 5 کروڑ کورس تیار کیے جائیں گے۔کمپنی کے مطابق اس کی جانب سے ہر ملک سے دوا کے کورس کی قیمت اس کی آمدنی کو مدنظر رکھ کر لی جائے گی، امریکا میں اس کی قیمت 700 ڈالرز کے قریب ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…