جمعہ‬‮ ، 08 مئی‬‮‬‮ 2026 

نسل پرستی کے معاملے پر اختلاف، ڈی کوک ورلڈ کپ ادھو چھوڑ کر واپس لوٹ گئے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2021 |

ابو ظہبی (این این آئی)ٹی20 ورلڈ کپ 2021 میں جنوبی افریقی وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کوک نسل پرستی کے خلاف اظہار یکجہتی کے معاملے پر بورڈ سے اختلاف رائے پر عالمی کپ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما نے

ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے قبل بتایا کہ کوئنٹن ڈی کوک ذاتی وجوہات کے سبب وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔یاد رہے کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ میچ میں بھی گھٹنے کے بل بیٹھ کر نسل پرستی کے خلاف اظہار یکجہتی سے انکار کردیا تھا ۔کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے ایک روزقبل اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے تمام کھلاڑیوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ ورلڈ کپ میچوں کے آغاز سے قبل ’گھٹنے کے بل بیٹھ کر‘ نسل پرستی کے خلاف ایک متفقہ اور متحدہ موقف اپنائیں۔بیان مین کہا گیا کہ اس طرز عمل پر کھلاڑیوں کے مختلف رویوں اور انداز سے یہ تاثر گیا کہ شاید وہ اس معاملے پر ٹیم میں اتفاق نہیں یا وہ اس موقف کی حمایت نہیں کرتے جس پر جنوبی افریقہ کرکٹ حکام نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔بورڈ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ معاملات کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ یہ محسوس کرتا ہے کہ خصوصاً جنوبی افریقہ کی تاریخ کو مدنظر ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نسل پرستی کے خلاف متحد نظر آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…