ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

” ماما والا منجن مت بیچیں بلکہ ۔۔“شہباز گل کا بھانجی کہنا شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب کو پسند نہ آیا ،نوک جھونک شروع ہو گئی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی)وفاقی وزیر برائے انسانی​​ حقوق شیریں مزاری نے بیٹی ایمان زینب کو ٹویٹر پر حکومت پر شدید تنقید کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جواب دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا تاہم اب اس نوک جھونک میں حکومتی ترجمان شہباز گل بھی شامل ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ایمان زینب نے ٹویٹر پر شہباز گل کو

مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر حکومت چلانے کے قابل ہوتے تو عوام کو ہر وقت مذہب کا درس نہ دے رہے ہوتے بلکہ اپنی کارکردگی دکھا رہے ہوتے۔جن لوگوں نے ملک کی معیشت تباہ کر دی، میڈیا پر بے شمار قدغنیں لگائیں اور اپوزیشن کو ہراساں کیا ان کے پاس مذہب کے پیچھے چھپنے کے سوا اور کیا راستہ رہ گیا ہے..“ایمان زینب کے ٹویٹ پر شہباز گل بھی میدان میں آئے اور انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ ہیں تو ہماری بھانجی لیکن آپکا منجن بکتا ہے اپنی والدہ کے ارد گرد موجود لوگوں کو برا بھلا کہنے پر۔ آپ سے رشتہ ایسا ہے کہ آپکو کیا جواب دیا جائے۔ بیٹا دبا کے رکھیں۔“شہباز گل کی جانب سے بھانجی کہنے پر ایمان زنیب ایک مرتبہ پھر میدان میں آئیں اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”میری والدہ کے ارد گرد جو لوگ ہیں وہ ان کا انتخاب ہے۔ اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ میں آپ کی بھانجی ہوں۔اگر میری بات کا آپ کے پاس کوئی جواب ہے تو ضرور دیجئے۔۔۔ اپنے ٹرولز کی طرح “ماما ماما” والا منجن مت

بیچیں۔“اس سے قبل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور اِن کی بیٹی ایمان زینب مزاری کی بھی سوشل میڈیا پر نوک جھونک ہوئی۔سوشل میڈیا پر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے کہا کہ ملک جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ہو رہا ہے، ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے۔ایمان زینب مزاری

نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں جادو کرنے والوں پر بات بھی نہ ہو، ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔جس پر شیریں مزاری نے اپنی بیٹی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ شرمندہ ہوں کہ تم اس حد تک گر کر ذاتی حملے کر رہی ہو، بطور وکیل کسی ثبوت کے بنا الزامات لگانا ہتک عزت میں آتا ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ تمام تنقید ناکام ہو تو ذاتی حملے کرنا شرمناک ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…