جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

’اگر ہم نے چوروں کی طرح ہی نکلنا تھا تو افغانستان لینے ہی کیا گئے تھے‘ جنگ میں ٹانگ گنوانے والے برطانوی فوجی کا ایسا سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں

datetime 11  جولائی  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )سٹورٹ پیئرسن نے کہا ہے کہ اگر ہم نےواپسی پر چھپ کر ہی بھاگنا تھا پھر وہاں لینے کیا گئے تھے آج ہم نے افغانیوں کا بے سہارا چھوڑ دیا ہے ۔ میری ایک ٹانگ گئی کئی ساتھیوں کو آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا لیکن آج نیٹو کے

انخلاء پر مجھے حیرانی ہے کہ اگر یہی سب کرنا تھا تو ہمیں کیا ضرورت تھی وہاں جانے کی ۔انگلش اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق سٹورٹ پیئرسن نے کہا ہے کہ ”اگر ہمیں اسی طرح رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح افغانستان سے نکلنا تھا اور افغانستان کو طالبان کے قبضے کے لیے خالی چھوڑ دینا تھا تو وہاں افواج بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ میں نے اس جنگ میں اپنی ٹانگ گنوا دی، اپنے ساتھیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔ افغانستان کے شہریوں نے اس دوران بے شمار قربانیاں دیں۔دوسری جانب افغانستان کے جنوبی صوبہ قندہار میں طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں اورمتعدداضلاع پر قابض ہونے کے بعد بھارت نے 50 سے زائداپنا سفارتی عملہ واپس دہلی پہنچادیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی صوبہ قندہار میں قائم بھارتی قونصلیٹ خانہ میں موجود لگ بھگ50 بھارتی سفارت کاروں اور عملے کے دیگر ارکان کو خصوصی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچادیا گیا ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ قندہار میں بھارتی قونصلیٹ خانہ بند نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہاںمقامی افراد کی موودگی میں کام ہوتا رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق قندہار کے ملحقہ کئی اضلاع پر طالبان کے حملوں اور افغان فروسز کے ساتھ شدید لڑائی اور امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال کے نتیجے میں بھارتی حکام نے قندہار سے اپنے سفارتی عملہ کو عارضی طورپر واپس بلالیا ہے۔ واضح رہے کہ کابل ‘ قندہار اور مزارشریف میں واقع سفارت خانہ اور قونصلیٹ خانوںمیں بھارت کے تقریباً 500 سفارت کاراوردیگر عملہ موجود ہے جن میں قندہا ر سے سفارتی عملہ کے 50 ارکان کو واپس دہلی پہنچادیا گیا ہے۔یادرہے کہ افغانستان کے شہر جلال آباد اور ہرات میں واقع بھارتی قونصلیٹ خانے پہلے ہی بند کردیئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…