بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

شدید گرمی میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ،سیاست اور الزام تراشیاں چھوڑیں اگر کام نہیں ہوتا تو گھر چلے جائیں، شہری تلملا اٹھے

datetime 2  جولائی  2021 |

گوجر خان(این این آئی)شدید گرمی میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش سے پانی بھی نایاب ہوگیا ہے جس پر لوگ قیامت خیز گرمی میں دوہرے عذاب کا شکار ہو رہے ہیں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی چیخیں نکلوا دیں گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہری حکومت اور واپڈا حکام کو جھولیاں

اٹھا کر بددعائیں دینے لگے بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ پر شہری حلقوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز حکومتی وزراء بجلی کی کوئی کمی نہیں کہہ کہہ کر نہیں تھکتے تو پھر اس کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کا کیا جواز ہے اگر سسٹم میں اضافی بجلی ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ تشویشناک اور نااہلی کی انتہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ شہریوں کو شدید گرمی کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آٹا، گھی، چینی اور دوائی کے بعد اب عوام بجلی سے بھی محروم ہو رہے ہیں عمران خان عوام کو لوڈ شیڈنگ والے نئے پاکستان میں لے آئے ہیں ان شہری حلقوں نے مزید کہا ہے کہ حکومت سیاست اور الزام تراشیاں چھوڑے اگر کام نہیں ہوتا تو گھر چلے جائیں عوام کو مزید اذیت اور تکلیف نہ دیں گرمی بڑھ گئی اس کے ساتھ ساتھ ایک شہری نے وزیراعظم عمران خان پر طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بل بھی بڑھ گئیسنا تھا گزرا وقت واپس نہیں آتا مگر خان صاحب کی دن رات محنت کی وجہ سے ،بتی چلی گئی اور بتی آ گئی والا دور واپس لانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ دوسری جانب بہاولنگر میں گرمی اور حبس میں چکن فروشوں کا فضلاء اٹھانے اور مرغیاں لے جانیوالی گاڑیاں شہریوں کیلئے وبال جان بنتی جارہی ہیں ان گاڑیوں کے گزرنے سے اٹھنے والے تعفن اور بدبو کی وجہ سے شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں

مرغیوں کا فضلاء اٹھانے والی گاڑیاں کھلی ہونے کی وجہ سے گلی محلوں اور بازاروں میں شہریوں کیلئے وبال جان بن ہوئی ہیں انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے ان گاڑیوں کی روک تھام کیلئے کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ گاڑیاں مختلف بیماریوں کو جنم دینے لگی ہیں جبکہ گرمی اور برسات کے موسم میں یہ مرغیاں انسانی صحت کیلئے کسی طرح بھی خطرے سے کم نہیں ہیں شہریوں نے ان گاڑیوں کو ڈھانپ کر فضلاء وغیرہ لے جانے اور گلی محلوں میں گاڑیاں باز رہنے کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…