جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت تاریخی ہے تو بجٹ کیسے عوامی ہوسکتا ہے، بلاول بھٹو

datetime 12  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو عوام پر معاشی حملہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر مہنگائی تاریخی ہے، بیروزگاری تاریخی ہے، غربت تاریخی ہے تو بجٹ کیسے عوامی ہوسکتا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی اپنا عوام دشمن بجٹ پیش کررہی

تھی تو پارلیمان کے باہر سرکاری ملازمین مہنگائی کی دہائیاں دے رہے تھے، سال بدل گیا مگر عوام کے حالات نہ بدلے، بجٹ آگیا مگر غریب کے گھر کا چولہا آج تک بجھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام جان چکے ہیں کہ بڑی بڑی باتیں کرنا عمران خان کی عادت ہے، وزیراعظم عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں،بجٹ 2021 کو پیش کرکے عمران خان نے اپنا غریب دشمن اور عوام دشمن ایجنڈا واضح کردیا، پیپلزپارٹی عمران خان کو عوام کے معاشی قتل عام کی اجازت نہیں دے گی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے پیش کئے گئے بجٹ میں نئے ٹیکسز نہ لگا کر اور کئی طرح کے ریلیف دے کر عوام کو بیل آئوٹ کیا ہے ، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزسمیت تمام ایسوسی ایشنز ، تاجر تنظیموں اور عوام نے بجٹ پر اپنے بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم وزیر اعظم عمران خان کی کامیابیوں سے نالا ںاپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ’’بغض ایسوسی ‘‘ کو ایک پل چین اور اطمینان نہیں آ رہا ۔ اپنے ایک بیان میں ہمایوں اختر خان نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسی طر ح کے نئے ٹیکسز نہیں لگائے ، بالواسطہ ٹیکسز کی شرح کم کی گئی ہے ، گروتھ کیلئے مینو فیکچرننگ کے

شعبے کو ریلیف دیا گیا ہے ، یہ حقیقت پر مبنی بجٹ ہے اور قوی امید ہے کہ کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا ۔ انہوں ے کہا کہ حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا ، احساس پروگرام کیلئے فنڈز کا حجم مزید بڑھایا گیا ہے ، ہم معیشت کی پائیدار ترقی کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کر رہے ہیں ،بیرونی قرضوں کے چنگل سے نکلنے کے لئے

منصوبہ بندی اور کوشش کی جارہی ہے ،اس کے لئے ہم ہائی گروتھ کی طرف جانا چاہتے ہیں اوراپنی برآمدات کو بڑھا کر انہیں مستحکم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ تقریر سنی نہیں اس لئے انہیں کچھ پتہ نہیں البتہ اب وہ اطمینان سے بجٹ دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن انہیں دو ربین سے بھی بجٹ میں کوئی خامی نظر نہیں آرہی جس پر انہیں اعلیٰ ظرف کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے رویے پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…