اسلام آباد ( آن لائن)پارلیمانی پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی نے راولپنڈی میٹرو منصوبے میں وسیع پیمانے پر ہونے والی بے قاعدگیوں اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبہ جلد مکمل کرنے کے لئے دن کے اجالے میں ڈاکہ ڈالا گیا اور نہ صرف ٹینڈرز کے بغیر ٹھیکے دیئے گئے بلکہ این ایل سی بورڈ کی منظوری لینا بھی گوارا نہیں کیا گیا،
کمیٹی نے دریائے چناب پر ایک پل کی تعمیر کا ٹھیکہ قواعد کے خلاف دیئے جانے کا معاملہ پہلے نیب کو بھجوایا تاہم وزارت منصوبہ بندی اور این ایل سی کے اعتراضات کے بعد محکمانہ اکائونٹس کمیٹی کو بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں ن لیگ دور میں وزارت منصوبہ بندی و ترقیات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی جانچ پڑتال کی گئی ۔ کمیٹی نے محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ۔ نوید قمر نے کہا پارلیمنٹ سے بڑھ کر کچھ نہیں بیورو کریسی ہمیں یہ تاثر نہ دے کہ وہ ہم سے بالا تر ہے،آڈٹ حکام نے بتایا کہ راولپنڈی میٹرو منصوبے کی انتظامیہ این ایل سی نے ایک سٹیل سپلائر کو بغیر ٹینڈر ٹھیکہ دیا ہے ۔ اس بناء پر قومی خزانے کو 12 کروڑ 93 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔نوید قمر نے کہا این ایل سی نے کب سے کنٹریکٹ لینا شروع کر دیا ہے ۔کمیٹی نے بغیر ٹینڈر سٹیل فرم کو ٹھیکہ دینے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا خانہ پری نہ کریں اصل لوگوں کا بتائیں جنھوں نے غلط فیصلے کیے۔ این ایل سی سمیت ہر ذمے دار کا نام بتایا جائے۔کمیٹی نے راولپنڈی میٹرو منصوبے میں گھپلوں کا بھی نوٹس لے لیا ہے ۔کمیٹی نے این ایل سی بورڈ کی منظوری کے بغیر کام کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ نوید قمر نے کہا جلد بازی میں کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ قواعد و ضوابط پورے نہ کیے جائیں۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ایل سی لاہور نے دریائے چناب پر ایک پل کی تعمیر کا ٹھیکہ قواعد کے خلاف دیا۔ٹھیکہ قواعد کے خلاف دینے پر ڈیڑھ ارب روپے سے زاید کا نقصان ہوا۔پی اے سی ذیلی کمیٹی نے پل کی تعمیر کا ٹھیکہ قواعد کے خلاف دینے کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا ۔ نوید قمر نے کہا نیب این ایل سی کا نام دیکھ کر نہ گھبرائے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔وزارت منصوبہ بندی اور این ایل سی نے کیس نیب کو بھیجنے پر اعتراض کیا ۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے کہا پہلے آڈٹ حکام ہمیں دستاویزات تو دے پھر نیب کو دینے کا فیصلہ کریں۔این ایل سی حکام اور سیکرٹری منصوبہ بندی کی درخواست پر کیس نیب سے واپس لے لیا۔ معاملے کو تحقیقات کیلئے دوبارہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔