منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان ریلویز کے افسران کی ناقص حکمت عملی ریلویز کے ذمے واجبات میں ایک ارب روپے سے زائد کا اضافہ

datetime 7  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان ریلویز کے افسران کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ریلویز کے وفاقی اور صوبائی اداروں اور محکموں کے ذمے واجبات میں صرف ایک سہ ماہی (تین ماہ)کے دوران ایک ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔وزارت ریلوے کے دستاویزات کے مطابق31مارچ 2021تک مختلف

وفاقی اور صوبائی محکموں کے ذمے ریلوے کے واجبات 9ارب 89کروڑ 16لاکھ روپے سے تجاوز کر گئے ، جن میں سے وفاقی اداروں کے ذمے ایک ارب 17کروڑ21لاکھ ،صوبائی محکموں کے ذمے 2ارب 44کروڑ 42لاکھ جبکہ پرائیویٹ باڈیز کے ذمے 6ارب 27کروڑ52لاکھ روپے سے زائد واجبات ہیں۔جبکہ 31دسمبر 2020تک ریلوے کے ان اداروں کے ذمے واجبات 8ارب 37کروڑ 50لاکھ تھے ،وفاق کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کے ذمے پاکستان ریلویز کے 70 کروڑ90لاکھ84ہزار روپے کے واجبات تھے ،صوبائی اداروں کے ذمے ریلویز کے ایک ارب 98 کروڑ2لاکھ17ہزار روپے جبکہ نجی اورخودمختار اداروں کے ذمے ریلویز کے 5ارب 68کروڑ57لاکھ 36 ہزار روپے کے واجبات ادا تھے، صرف تین ماہ میں واجبات میں ایک ارب روپے تک کے اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال میں ریلویز کے سالانہ خسارے میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…