پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

حضرت سید نا علی المر تضی ؓ نے فر ما یا کہ جس گھر میں مکڑی کا جالا صاف نہ کیا جا ئے وہاں کون سا عذ اب نازل ہو تا ہے؟

datetime 23  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں اس کی بے شمار قسمیں ہیں آٹھ ٹانگیں بغیر جبڑے کا منہ دنیا بھر میں پائی جانے والی مکڑیاں جگہ اور موسم کے اعتبار سے مختلف رنگوں اور جسامت کی حامل ہو تی ہیں تما م مکڑیوں میں جالا بنانے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہو تی ہے یہ جا لا رشیمی لہمیات پر مشتمل ہو تا ہے زیادہ تر مکڑیاں اس جالے کو شک اری ہتھیار کے طورپر استعمال کر تی ہیں

اپنی خوراک حاصل کر تی ہیں مکڑیوں کی کچھ اقسام ہیں مکڑیوں کی کچھ اقسام بے زرر ہو تی ہیں جب کہ کچھ انتہائی ز ہ ر یلی بھی ہو تی ہیں ان کی خوراک کیڑے مکوڑے۔ اکثر مکڑیاں اپنے اندر سے ایک گاڑھا لوعاب نکالتی ہیں ۔ جس سے وہ جا لا بنتی ہیں جالا ان کی رہا ئش گاہ اور شکار گاہ ہوتا ہے اچھی خاصی جسامت کی ہوتی ہے مکڑی کی آٹھ ٹانگیں ہوتی ہیں اور آٹھ ہی آنکھیں ہو تی ہیں مکڑیاں ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں یہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد پر قابو رکھنے میں مدد دیتی ہیں جو پودوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں عام طور پر گھروں میں اندرونی کیڑوں جیسے مچھر اور مکھی وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ایک مکڑی ایک سال میں تقریبا 2000 کیڑے کھا جاتی ہے ایک اندازے کے مطابق زمین پر 100 ملین سالوں سے مکڑیوں کے جالے موجود ہیں۔مکڑیاں پروٹینیم ریشم سے ایک ڈھانچہ تیار کرتی ہیں جسے مکڑی کا جال کہا جاتا ہے۔ جالا بنانے میں مکڑی کوتقریباََ ایک گھنٹہ لگتا ہے ، اور وہ عام طور پر ہر روز ایک نیا جالا تیار کرتی ہیں۔ تمام مکڑیاں اپنا کھانا جالوں میں نہیں پکڑتیں۔ بھیڑیا نامی مکڑی کی ایک قسم زمین میں ایک سوراخ بنا دیتی ہے اور شکار کے قریب آنے تک انتظار کرتی رہتی ہے۔ آٹھ آنکھیں ہونے کے باوجود زیادہ تر مکڑیاں کی بینائی کمزور ہوتی ہے جس سے وہ اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتی اور اپنے شکار کے حرکت سے محسوس کرتی ہیں جب مکڑی انڈے دیتی ہے تو وہ انہیں ایک ریشم کی قسم سے تیار کردہ تھیلی میں محفوظ کرلیتی ہے مکڑیوں کا سب سے زیادہ شکار پرندے ، چھپکلی ، سانپ اور بچھو وغیرہ کرتے ہیں۔ کچھ کیڑے

مکوڑے بھی مکڑیوں کا شکار کرتے ہیں ، جن میں منٹس اور ایک تتییا بھی شامل ہے جو مکڑیوں کو پکڑنے اور مفلوج کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ تندور مکڑی کو زندہ دفن کردیتا ہے۔ تاکہ جب وہ کھائیں تو وہ تازہ کھانا کھا سکیں آسٹریلیائی ریڈ بیک جیسی مکڑی کھائے بغیر چھ ماہ تک زندہ رہ سکتی ہےایک اندازے کے مطابق اوسط بالغ انسان کا وزن مکڑی کے وزن سے اڑھائی لاکھ گنازیادہ ہوتا ہے مکڑیاں پنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی کیونکہ ان کی پلکیں نہیں ہوتی تاہم آرام کرنے کیلئے یہ اپنا میٹا بولزم کو

کم کر دیتی ہیں ٹارانٹولا نامی مکڑی ایک قسم ہے جسکی عمر پندرہ سال تک ہو سکتی ہےمکڑیوں کو دور رکھنے کیلئے ترش پھلوں کی خوشبو جیسے لیموں اور سنگترہ یا مرچ کا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے اور حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ مکڑیوں کے جالوں کو گھر میں نہ بننے دو کیونکہ ان کی وجہ سے جو ہے گھر میں نہوست پیدا ہو تی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…