اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پٹرول پمپس بند کر دیے گئے، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

datetime 27  جون‬‮  2020 |

کو ئٹہ(آن لائن)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پیٹرول پمپس بند کردئیے گئے جس کی وجہ سے لوگوں کو پیٹرول کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی

قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے ڈیزل کی قیمت 21 روپے31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23 روپے50 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے عامر پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہی ہوجائے گا پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پیٹرول پمپس بند کردئیے گئے جس کی وجہ سے لوگوں کو پیٹرول کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عوامی حلقوں کی جانب سے پیٹرول پمپس کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے ہوتا ہے لیکن پیٹرول بہت پہلے نایاب ہوگئے خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی کھپت کم ہونے سے قیمتیں تاریخ کی کم تریں سطح پر پہنچ گئی تھیں جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کی گئی تھی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…