اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

اپوزیشن کل نہیں آج ہی استعفے دے،حکومت کا چیلنج، مولانا فضل الرحمان کے کیخلاف عدالت جانے سمیت بڑے اقدامات کا اعلان کردیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک نے جمعیت علمائے اسلام جے یو آئی(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ اور دوبارہ انتخابات تو نا ممکنات میں سے ہیں،

ہم کارکنوں کو اکسانے پر عدالت جائینگے،اس وقت سارے ادارے ایک پیج پر ہیں مطلب ہے حکومت صحیح چل رہی ہے،اگر یہ معاہدے پر قائم نہیں رہتے تو پھر یقینا ایکشن لیا جائیگا،اپوزیشن والے کل کا انتظار کیوں کررہے ہیں؟ آج ہی استعفے دیں اور میدان میں آئیں،دنیا پاکستان پر بھروسہ کر رہی ہے، جس طرح کے پی میں دوبارہ حکومت بنائی اسی طرح دوبارہ وفاق میں بھی حکوت بنائیں گے۔،ضلعی انتظامیہ سے معاہدہ ہوا ہے،ہمارے اپوزیشن سے رابطے جاری ہیں،مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں، وزیراعظم کا استعفیٰ یا دوبارہ انتخابات تو ناممکنات میں سے ہیں، ہم کارکنوں کو اکسانے پر عدالت جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کا یہ بیان کہ عوام وزیراعظم کے گھرجاکر ان سے استعفیٰ لیں گے، یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، یہ لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں اور غلط سمت لے جارہے ہیں، اس وقت سارے ادارے ایک پیج پرہیں اس کا مطلب ہے حکومت صحیح چل رہی ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ اپوزیشن نے ایک معاہدہ کیا ہے، اگر آگے بڑھیں گے تو اپنے ہی کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے، ہم اس معاہدے پر کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…