اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

17 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا، حکومت یہ کام کرے تو معیشت دو سال میں بہتر ہو جائے گی، زبیر موتی والا کی خصوصی گفتگو

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مشاورت کرے ملک کی معیشت دو سال میں بہتر ہو جائے گی کیونکہ معیشت کو بہتر کرنے کا حل ہمارے پاس موجود ہے،ہماری مارکیٹوں کا حال بہت خراب ہے۔ اتنی بری حالت پاکستان کی کبھی بھی نہیں ہوئی،آرمی چیف کو ہم نے مسائل بتائے تو انہوں نے کہا مجھے مارکیٹ کے بارے میں سب معلوم ہے اور ان کے پاس تمام تفصیلات موجود تھیں۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے

زبیر موتی والا نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی یہ نہیں کہہ رہی کہ معیشت بہت مضبوط ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسی پالیسی لا رہے ہیں جس سے معیشت بہتر ہو جائے گی۔ ہماری مارکیٹوں کا حال بہت خراب ہے۔ اتنی بری حالت پاکستان کی کبھی بھی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ سیلز ٹیکس کا ریفنڈ ہمیں نہیں ملے گا اور حکومت کو یہ عوام کو اعتماد دلانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ کاروبار میں شناختی کارڈ کے مسئلے کو حکومت تاجروں کے ساتھ بیٹھ کر حل کرے معاملات ایسے نہیں چلیں گے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ آرمی چیف کو ہم نے مسائل بتائے تو انہوں نے کہا مجھے مارکیٹ کے بارے میں سب معلوم ہے اور ان کے پاس تمام تفصیلات موجود تھیں۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ نیب اگر بدعنوانی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے کرنا چاہے لیکن کاروباری معاملات میں مداخلت کرنا درست نہیں ہے۔ آرمی چیف نے ہمیں مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی اور اگلے ہی روز نیب چیئرمین نے پریس کانفرنس بھی کی۔تاجر رہنما نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کرپشن کے پیسے واپس آئیں اور اس کے لیے نیب کو کام کرنا چاہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل میں 3 سے 4 فیصد سے زیادہ منافع نہیں ہوتا اس پر اگر آپ 17 فیصد کا سیلز ٹیکس لگا دیں گے تو ان کا کاروبار کیسے چلے گا۔ حکومت کو پوائنٹ آف سیل سے ٹیکس وصول کرنا چاہے۔ مینو فیکچر اور

ایکسپورٹر کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ اگر ملک کی سیاست اسی طرح چلتی رہی تو اس ملک کا مستقبل انتہائی خطرناک ہو گا۔ عمران خان کو تاجروں کی جانب سے جو 6 پوائنٹس دیے گئے ہیں اس پر عمل کیا جائے تو 2 سال میں ہی معیشت درست ہونا شروع ہو جائے گی۔ حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات تو کرے ہمارے پاس حل موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…