اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک بھرمیں ٹوکن ٹیکس آن لائن وصول کرنے کا فیصلہ، گاڑی مالکان اپنے اپنے شہروں میں ہی گاڑیوں کو ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے،تفصیلات جاری

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس آن لائن وصول کرنے کا فیصلہ کر لیا ملک بھر میں تمام گاڑی مالکان اپنے اپنے شہروں میں ہی گاڑیوں کو ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے،

ذرائع کے مطابق چیف کمشنراسلام ا آباد عامرعلی احمدنے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا کہ  اسلام آبادکے دفترایکسائز میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس بھی آ ن لائن وصول کیا جائے تاکہ شہریوں کو سہولیات میسرہوں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سفارشات منظور ہوچکی ہیں آئندہ چند دنوں میں آن لائن ٹوکن ٹیکس وصولی کیلئے سروس شروع ہو جائے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے گاڑیوں کے مالکان اپنے اپنے شہر میں نیشنل بنک کی کسی بھی برانچ میں ٹوکن ٹیکس ادا کرسکیں گے۔یاد رہے کہ قبل ازیں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی آن لائن شروع کررکھی ہے جس کی وجہ سے دفترمیں ٹاؤٹ مافیاکاخاتمہ ہوا اب ٹوکن ٹیکس آن لائن ہونے کی وجہ سے مالکان ملک کے کسی بھی نیشنل بنک میں ٹوکن ٹیکس ادا کرسکیں گے،دوسری جانب چیف کمشنر کی ہدایت پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفتر کے اندر ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ بند کر دیا گیا اور شہریوں سے ڈائریکٹر ایکسائز نے کہا ہے کہ دفتر کے اندر کوئی بھی ٹاؤٹ نظر آئے تو انہیں آگاہ کریں تاکہ ان کیخلاف کارروائی کی جاسکے،قبل ازیں 8ٹاؤٹوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کروا دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…