اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

جولائی کے مہینے میں محکمہ ریلوے کو مختلف وجوہات کی بناء پر 20کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا،مسافر بھی خوار

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)جولائی کے مہینے میں محکمہ ریلوے کو مختلف وجوہات کی بناء پر 20کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی میں ٹرینوں کی منسوخی، بھاری ریفنڈ اور سٹاف کے آپریشنل الاؤنسز کے باعث ریلوے کو 20کروڑروپے کا نقصان ہوا۔

ریلوے سسٹم کے مطابق 138اپ اینڈ ڈاؤن مسافر ٹرینیں ایک ماہ کے دوران پینسٹھ ہزار گھنٹوں میں سفر مکمل کرتی ہیں مگر یہ 70 ہزار گھنٹوں میں طے ہوا، کنکٹنگ ریکس لنک کے ذریعے 1455گھنٹے ضائع ہوئے۔یکم جولائی سے دس اگست تک مال بردار گاڑیوں کی بروقت آمد ورفت کی شرح 11سے 13فیصد رہی، ٹرینوں کی مجموعی باقاعدگی بھی 45سے 50فیصد ریکارڈ کی گی۔سگنل اور انجنوں کی خرابی، بارشوں اور دیگر وجوہات کی بنا ء پر مسافر ٹرینیں پانچ ہزار چھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، ٹرینیں پانچ ہزار گھنٹے زیادہ چلنے سے فیول بھی زیادہ ضائع ہوا۔ ریل گاڑیوں کے متاثرہ شیڈول پر مسافر بھی انتظار کی اذیت سے دوچار رہے۔مجموعی طور پر موسم کی خرابی سے ٹرینوں کے سات سو انسٹھ گھنٹے،کمپیوٹر بیسڈ انٹر لاکنگ سگنل سسٹم میں خلل سے پانچ سو انیس گھنٹے ضائع ہوئے، ٹریک پر فنی رکاوٹوں سے تین سو تراسی گھنٹے،دوران سفر کوچوں کی خرابی سے دوسو تینتالیس گھنٹے تاخیر ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…