ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پٹرولیم مصنوعات بجلی،گیس کی قیمتوں کا تعین،ریگولیٹری اداروں کو مکمل اختیارات دینے کی تیاریاں،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 29  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کی قیمتوں کے تعین کیلئے ریگولیٹری اداروں کو مکمل اختیارات دینے پر غور شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے دوران مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے شرح سود اور شرح مبادلہ کے حوالے سے فیصلہ کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کو مکمل خود مختاری دینے کی سفارش کی گئی تھی۔

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات،بجلی و گیس کی قیمتوں کے تعین کیلئے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو مکمل طور پر خود مختار بنانے کی تجویز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ذرائع نے اس ضمن میں مزید بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوں کے تعین اور رد و بدل کیلئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)اور بجلی کے نرخوں کے تعین اور فیول ایڈجسٹمنٹ کیلئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)کو اختیارات تفویض کرتے ہوئے مکمل طور پر خود مختار بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق زیر غور تجویز میں نیپرا کو بجلی اور اوگرا کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے اختیارات سے اس ضمن میں حکومت پر دباو میں کمی واقع ہوگی اور دونوں ریگولیٹری ادارے قیمت خرید اور فروخت کے مطابق یوٹیلیٹیزکی قیمتوں کا تعین کرینگے۔اس ضمن میں ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ ان ریگولیٹری اداروں کو قیمتوں کے تعین میں خود مختاری ضرور دی جائے،تاہم کسی بھی قسم کا حتمی فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی،کابینہ یا پھر وزیر اعظم کی مشاورت و ہدایات کے مطابق ہی کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…