ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کمسن بھائی سے ہاتھ چھڑوا کر اغواء کار بچی کو اپنے ساتھ لے گیا، 3 سالہ بچی حبا جنت کے اغواء کا ڈراپ سین

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)شاد باغ کے علاقہ بھگت پورہ میں تین سالہ بچی کو نا معلوم شخص اغواء کر کے لے گیا، وزیرا علیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو بچی کی بازیابی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھاجا سکتا ہے شاد باغ کے علاقہ بھگت پورہ کی رہائشی تین سالہ حباجنت اپنے 4 سالہ بھائی کے ہمراہ گھر سے چیز لینے نکلی اور اسی دوران نا معلوم اغوا ء کار نے بچی کا بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور

لے کر فرار ہو گیا جبکہ حبا کا کمسن بھائی بہن کے پیچھے بھاگتا رہا۔اغوا ء کار کی ہلکی داڑھی ہے اور اس نے سر پر ٹوپی پہن رکھی ہے، سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنے اغوا ء کار کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہے۔ڈی ایس پی شادباغ کا کہنا ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تلاش شروع کر دی گئی ہے اور جلد ہی بچی کو بازیاب کرالیا جائے گا۔۔بچی کے والد نعمان کا کہنا ہے کہ میری کسی سے دشمنی نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی بچی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور اس کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں۔علاوہ ازیں شاد باغ سے تین سالہ بچی کے اغوا ء پر پنجاب اسمبلی میں توجہ دلا نوٹس بھی جمع کرا دیا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی کنول لیاقت کی جانب سے جمع کرائے گئے توجہ دلاؤنوٹس میں کہا گیا ہے کہ شہر بھر میں بچیوں کے اغوا ء کے بڑھتے واقعات انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔حبا جنت کے اغوا ء سے متعلق صحیح صورتحال سے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ شاد باغ کے علاقہ بھگت پورہ میں تین سالہ بچی کے اغواء کا ڈراپ سین ہو گیا، اغواء کار بچی کو شاد باغ کی ایک مسجد میں چھوڑ کر فرار ہو گیا، پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد بچی کو ورثاء کے حوالے کر کر دیا۔

رات کے وقت بچی کے اغواء کا ڈراپ سین ہو گیا۔ملزم بچی کو شادباغ کی ایک مسجد میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد بچی ورثا کے حوالے کر دی۔ پولیس کے مطابق اس کیس کو بند نہیں کیا گیا بلکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے اغواء کار کی تلاش جاری ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ بچی کے والد اور دیگر رشتہ داروں نے کہا کہ ہماری دعائیں رنگ لے آئیں اور ہمیں ہماری بچی مل گئی ہے۔ ہم میڈیا اور پولیس کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…