ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لڑکی اسپتال میں دانت کا علاج کرانے آئی اور جان کی بازی ہار گئی لڑی کو غلط انجیکشن لگنے کے بعد عملے نے گھروالوں کو فون کر کے کیا بتایا گیا ؟ حقیقت کھل گئی

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) سرکاری اسپتال میں مبینہ طور پرغلط انجیکشن لگنے سے 19 سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی۔ لواحقین کے احتجاج پر پولیس نے اسپتال سے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں پرائیوٹ اسپتال کی مبینہ غفلت کے بعد سرکاری اسپتال میں بھی برتی جانے والی مجرمانہ غفلت کا واقعہ سامنے آگیا ہے۔واقعات کے مطابق کورنگی میں واقع سندھ گورنمنٹ اسپتال میں دانت میں درد کے

علاج کے لیے آنے والی 19 سالہ لڑکی عصمت اس وقت انتقال کرگئی جب اسے درد میں آرام کے لیے انجیکشن لگایا گیا۔متوفیہ ابراہیم حیدری کے علاقے کی رہائشی تھی۔ اسپتال میں موجود لواحقین نے عصمت کے انتقال کا ذمہ دار اسپتال کے عملے کو ٹھہراتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ موت کا سبب غلط انجیکشن تھا۔ذرائع کے مطابق لڑکی کی پراسرار ہلاکت پر ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سندھ گورنمنٹ اسپتال ڈاکٹر خرم کا کہنا ہے کہ معاملے کی انکوائری کررہے ہیں۔19 سالہ عصمت کے انتقال پر مرحومہ کی خالہ ریحانہ خاتون سمیت دیگر متعلقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔اسپتال میں لڑکی کی پراسرار ہلاکت کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور اس نے نرسنگ اسٹاف سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے اور کیمیکل ایگزامن رپورٹ کے بعد ہی لڑکی کی موت کی وجہ سامنے آسکے گی۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس انجکشن کو بھی تحویل میں لیا ہے جو لڑکی کو لگایا گیا تھا۔کراچی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ کورنگی عوامی کالونی میں درج کرلیاہے۔ متوفیہ عصمت کے بھائی غلام محمد کی مدعیت میں درج مقدمہ میں ڈاکٹر ایاز اور کمپاوڈر شاہزیب کو نامزد کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق غلام محمد نے پولیس کو بتایا کہ عصمت دانت کی تکلیف میں صبح 10 بجے

سندھ گورنمنٹ اسپتال گئی تھی۔ ڈیڑھ بجے عصمت کے نمبر پر کال کی تو اٹینڈ نہیں ہوئی۔ایک نمبر سے کال آئی کہ عصمت کی طبیعت زیادہ خراب ہے جناح ہسپتال پہنچو۔غلام محمد کے مطابق ابھی وہ راستے میں تھے کہ دوبارہ فون آیا کہ سندھ گورنمنٹ پہنچو۔ اسپتال پہنچنے پر دیکھا تو عصمت کی لاش اسٹریچر پر تھی۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر ایاز نے انجکشن لکھا اور کمپاوڈر شاہزیب نے لگایا۔ عصمت کی موت غلط انجیکشن لگنے سے ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزم کمپاوڈر شاہزیب گرفتار ہے ڈاکٹر ایاز مفرور ہے اور اسکی تلاش جاری ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…