ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پارلیمانی سے صدارتی نظام کی طرف جاسکتے ہیں،وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے آئینی ترمیم کا عندیہ دے دیا

datetime 18  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی سے صدارتی نظام کی طرف جاسکتے ہیں ریفرنڈم کی آئینی حیثیت پارلیمنٹ سے زیادہ ہے۔ عوام اگر کوئی چیز چاہتے ہیں تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ کرپشن نے معیشت کا جو حال کیا ہے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ایمنسٹی سکیم محصولات بڑھانے کیلئے نہیں اس کا مقصد آخری موقعی دینا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ وزیر اعظم کا ہدف دو نمبری کے کلچر کا خاتمہ ہے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصدمحصولات میں اضافہ نہیں ہے ، اس کا مقصد شہریوں کو ایک اور موقع دینا ہے

ٹیکس ایمنسٹی سکیم آخری موقع ہے جس کے بعد صرف ایکشن ہوگا اور کوئی چانس نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر اور تاجر برادری نے ایمنسٹی سکیم کا مطالبہ کیا تھا کرپشن نے معیشت کا جو حال کیا ہے وہ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے اس پر مشاورت جاری ہے ۔ ہم انسداد ھشت گردی ایکٹ میں اکنامک دھشت گردی کو بھی شامل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داریاں بڑھنے والی ہیں ہم آئین میں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی جانب جاسکتے ہیں ،ریفرنڈم کی آئینی حیثیت پارلیمنٹ سے زیادہ ہے عوام اگر کوئی چیز چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…