منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

دفعہ 35-Aپاکستان اور بھارت کے درمیان 1954ء میں کیا معاہدہ ہواتھا؟اس اہم ترین معاہدے کے تحت کشمیریوں کو کس بات کاتحفظ حاصل ہے؟سابق بھارتی چیف جسٹس کے انکشافات

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

سرینگر(این این آئی)بھارت کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر اے ایس آنند نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ دفعہ 35-Aپاکستان اور بھارت کے درمیان1954ء میں طے پانے والے معاہدے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے کچھ قانونی ماہرین دفعہ 35-Aکو منسوخ کرنے کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھار ہے ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق

جسٹس اے ایس آنند مقبوضہ کشمیر کی پہلی شخصیت ہیں جو بھارتی سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس بنے تھے۔ ان کی کتاب Constitution of Jammu and Kashmir, its Development and Comments کے مطابق دفعہ 35-Aپاکستان کے ساتھ معاہدے معاہدے کا نتیجہ ہے۔ کتاب کے مطابق پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایاتھا کہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو علاقے کے مستقل باشندوں کے لیے خصوصی قانون سازی کا اختیار ہوگا اور یہ ضروری سمجھا گیا کہ بھارتی آئین میں اس سلسلے میں راستہ کھلا رکھا جائے اور اسی لیے1954ء کے آرڈر کی سیکشن 2(4)(j) کے تحت دفعہ 35-Aکوشامل کیا گیا۔ کتاب کا پیش لفظ بھارت کے سابق چیف جسٹس ایم این وینکٹا چلیہ نے لکھا ہے۔ سینئر وکیل اورمعروف ماہر قانون ایس ٹی حسین نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ اگر دفعہ 35-Aپاک بھارت معاہدے کا نتیجہ ہے توپھر یہ قانون ریاست کشمیر کا ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کو اس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے اور اسے منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 1859ء کے پریوی کونسل کے فیصلے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے پاس دفعہ 35-Aکا کیس سننے کا اختیار نہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلے کے مطابق ریاست کے قانون کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور اس فیصلے کو حتمی تسلیم کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقومی قانون کا بھی بنیادی اصول ہے اور بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس اصول کو تسلیم کررکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…