جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے ، ترک صدر

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
Turkey's Prime Minister Tayyip Erdogan waves after addressing the media at the AK Party headquarters in Ankara July 30, 2008. Erdogan said on Wednesday a Constitutional Court ruling not to ban the governing AK Party removed uncertainty the European Union-applicant country was facing. In his first remarks since the court ruling, Erdogan said Turkey had suffered a serious loss of time and energy due to the case but that his party would continue to uphold the country's secular values. REUTERS/Stringer (TURKEY)

استنبول(نیوزڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی شام کی سرحد کے نزدیک روس کا لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا ہے۔ترکی نے اپنی سلامتی اور شام میں اپنے بھائیوں کے دفاع کے لیے اقدام کیا تھا،ترک صدر نے بدھ کے روز استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی جیٹ کو ترکی کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا لیکن وہ تباہ ہونے کے بعد شام کی حدود میں گرا تھا۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس طیارے کے کچھ حصے ترکی کی حدود میں گرے تھے جس سے دو شہری زخمی ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا کہ ہم کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے ہیں ،ہم صرف اپنی سکیورٹی اور اپنے بھائیوں کے حقوق کا دفاع کررہے تھے۔اس واقعے کے بعد ترکی کی شام کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ہم شامی سرحد کے دونوں جانب انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ہم مہاجرین کی نئی لہر کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…