اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

سائنسدانوں کا کورونا وائرس ختم کرنے والا ایئرفلٹر تیار کرنے کا دعویٰ

datetime 9  جولائی  2020 |

نیویارک (این این آئی)سائنسدانوں نے ایسا ایئر فلٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ہوا میں موجود نئے کورونا وائرس کو ‘پکڑ کر مار’ سکتا ہے۔امریکا کی ہیوسٹن یونیورسٹی نے دیگر اداروں کے اشتراک سے سے یہ ایئر فلٹر تیار کیا اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ کووڈ 19 کا باعث بننے والے کورونا وائرس کو فوری طور پر ختم کرسکتا ہے۔

جریدے میٹریلز ٹوڈے فزکس میں شائع مقالے میں محققین نے بتایا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں میں ثابت ہوا کہ آسانی سے دستیاب نکل فوم سے بنائے جانے والا فلٹر 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے 99.8 فیصد کورونا وائرس کا خاتمہ کردیتا ہے۔محققین نے بتایا کہ یہ فلٹر ائیرپورٹس اور طیاروں، دفتری عمارات، اسکولوں اور کروز جہازوں میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکے گا،درحقیقت اس کی وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت معاشرے کے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک ڈیسک ٹاپ ماڈل پر بھی کام کررہے ہیں جو کسی جگہ کی ہوا صاف کرنے میں مدد دے سکے گا۔ہیوسٹن یونیورسٹی سے مارچ میں میڈیا اسٹار نامی ایک طبی نگہداشت کے لیے کام کرنے والے ادارے نے رابطہ کیا تھا تاکہ وائرس کا خاتمہ کرنے والے ایئر فلٹر کو تیار کیا جاسکے۔طبی ماہرین یہ پہلے ہی جان چکے ہیں کہ مخصوص حالات میں نیا کورونا وائرس ہوا میں 3 گھنٹے تک موجود رہ سکتا ہے اور یہ ایئر فلٹر اس کے فوری خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے دفاتر کو کھولنے کے ساتھ ان مقامات میں ایئر کنڈیشنر سے وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔محققین کے مطابق وہ پہلے سے جانتے تھے کہ یہ وائرس 70 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر زندہ نہیں رہتا تو انہوں نے ایک حرارت والے فلٹر کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس کے لیے انہوں نے 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے فلٹر کو تیار کیا تاکہ وائرس کا فوری خاتمہ کیا جاسکے۔محققین کے مطابق نکل فوم کے استعمال سے متعدد ضروریات پوری ہوجاتی ہیں، یہ مسام دار ہوتا ہے، ہوا کا بہاؤ اور برقی موصل کو برقرار رکھتا ہے، جس سے حرارت پیدا ہوتی ہے، یہ لچکدار بھی ہوتا ہے تاہم نکل فوم میں درجہ حرارت بڑھانا آسان نہیں ہوتا اور سائنسدانوں نے اس کے حل کے طور پر برقی تاروں کے لیے متعدد خانے بنائے تاکہ درجہ حرارت 250 ڈگری سینٹی گریڈی تک برھایا جاسکے۔سائنسدانوں کے مطابق بجلی کے ذریعے فلٹر کو گرم کرنے سے اس سے حرارت کے اخراج کو کم از کم رکھنا بھی ممکن ہوسکے گا ، ایئرکنڈیشنر کے افعال بھی متاثر نہیں ہوں گے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…