جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

گوگل نے وائرس کی روک تھام کیلئے لوکیشن ڈیٹا جاری کردیا

datetime 4  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی )ایلفا بیٹ انک کی ویب سائٹ گوگل نے ایسے چارٹس شائع کیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وائرس نے کس بری طرح اٹلی کو نشانہ بنا کر وہاں زندگی پر جمود طاری کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل صارفین کے فون کے لوکیشن ڈیٹا کا تجزیہ اب تک سب سے بڑا دستیاب عوامی ڈیٹا ہے جس کا مقصد حکام کی یہ جائزہ لینے میں مدد کرنا ہے کہ عوام گھروں تک محدود رہنے

اور وائرس سے بچا کے دیگر اقدامات پر عمل پیرا ہیں کہ نہیں۔کمپنی نے 131 ممالک میں 5 ہفتے یعنی 16 فروری سے 29 مارچ تک خریدو فروخت اور تفریحی سرگرمیوں، ٹرینوں اور بس اڈوں، گھریلو اشیا کی دکانوں اور کام کی جگہوں پر ٹریفک کے حوالے سے رپورٹ جاری کی جس میں چارٹس بھی شامل ہیں۔گوگل کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس تشویش سے بچنے کے لیے کہ حکام کو کیا مواد فراہم کیا جارہا ہے یہ رپورٹ پبلش کی، تاہم اس سے لوکیشن کی ٹریکنگ کے سلسلے میں مستقبل میں وبا کی روک تھام کی ضرورت کے ساتھ پرائیویسی کو متوازن رکھنے کی عالمی بحث شروع ہوگئی ہے۔اٹلی اور اسپین وہ 2 ممالک ہیں جنہیں وائرس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے دونوں ممالک میں دکانوں اور تفریحی مقامات مثلا ریسٹورنٹس اور سینما گھروں میں لوگوں کی آمد میں 94 فیصد کمی ہوئی ہے۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور فلپائن میں یہ کمی 80 فیصد رہی اسی طرح بھارت میں 25 مارچ کو اچانک 21 روز کا لاک ڈائون لگنے سے یہ شرح 77 فیصد کم رہی۔امریکا اور آسٹریلیا میں سماجی فاصلے کے اقدامات کی بدولت اس قسم کے مقامات پر لوگوں کی آمد میں 50 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔اس کے برعکس سویڈن اور جاپان جہاں حکام نے سخت پابندیاں عائد نہیں کی، دکانوں اور تفریحی مقامات پر آمدو رفت میں صرف ایک چوتھائی کمی آئی۔اسی طرح جنوبی کوریا جس نے جارحانہ ٹیسٹنگ اور وائرس کے رابطوں کی تلاش کر کے کامیابی سے وبا کو قابو کرلیا ہے وہاں یہ کمی صرف 19 فیصد دیکھی گئی۔اس ڈیٹا میں ان چیلنجز کا بھی ذکر ہے جن کا عوام کو دور رکھنے کے لیے حکام کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب سنگاپور، برطانیہ اور دیگر مقامات پر گھریلو اشیا کی دکانوں پر لوگوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا جہاں اب سفر پر پابندی عائد ہونے والی ہے۔ادھرکیلیفورنیا میں لگنے والے لاک ڈائون کے دوران سان فرانسسکو کے بے ایریا کی کچھ کائونٹیز میں پارکس میں لوگوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا۔گوگل کی رپورٹ میں شامل کردہ ڈیٹا موبائل فون میں گوگل کی لوکیشن ہسٹری کے فیچر کی مدد سے حاصل کیا گیا۔کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے تکنیکی اقدامات اس بات کو یقینی بنا کر اٹھائے کہ کسی شخص کو ان رپورٹ کی مدد سے شناخت نہ کیا جاسکے۔گوگل کے چیف ہیلتھ افسر ڈاکٹر کیرن ڈی سالوو کا کہنا تھا کہ رپورٹ رازداری کے پروٹوکولز اور پالیسز کو مدِ نطر رکھتے ہوئے اس طرح بنائی گئی ہے کہ مددگار ثابت ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…