اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے  استعمال ، شہریوں نے تشویش کا اظہار کر دیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2019 |

بیجنگ (این این آئی)بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں اور خریداری مراکز میں چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے نظام کو نافذ کیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نندو پرسنل انفارمیشن پروٹیکشن نامی تحقیقاتی ادارے کے جانب سے جاری کردہ اس سروے کو چین میں اس موضوع پر رائے عامہ میں اپنی نوعیت کی سب سے پہلی اور بڑی تحقیق قرار دیا گیا ۔اس سروے میں شامل تقریباً 80 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے نظام میں سکیورٹی خامیاں ہیں۔واضح رہے کہ چین بھر میں عوام کی نگرانی کرنے کے لیے 17 کروڑ سے زائد کیمروں پر مبنی وسیع و عریض نیٹ ورک نصب کیا گیا ہے۔ایک اور کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چین کے شہریوں کے پاس اس حوالے سے تشویش کی معقول وجہ ہے۔ایک تحقیق جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح بڑے پیمانے پر متجاوز طریقوں سے بائیو میٹرک شناخت اور نگرانی کے نظام کو لاگو کیا جا رہا ہے، چین کو 50 ممالک کی فہرست میں بدترین درجہ دیا گیا ہے۔یہ تحقیق کمپاریٹیک نامی سائبرسکیورٹی کمپنی نے کی تھی۔اس تحقیق میں کہا گیا تھا کہ چین کے پاس شہریوں کی بائیو میٹرکس کے تحفظ کے لیے کوئی خاص قانون موجود

نہیں ہے اور اس نے کام کی جگہ پر ملازمین کے لیے حفاظتی انتظامات کی کمی کو اجاگر کیا تھا۔تحقیقاتی ادارے نندو کی جانب سے یہ سروے اکتوبر اور نومبر کے مہینوں کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس سروے میں 57 فیصد جواب دہندگان نے اپنی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ، 84 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ اس ڈیٹا کا جائزہ لینا چاہتے ہیں

جو چہرے کی شناخت کرنے والے نظام نے ان کے بارے میں اکٹھا کیا تھا اور وہ یہ درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ اسے حذف کر دیا جائے۔اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ کو متبادل کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔لیکن سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 60 سے 70 فیصد چینی باشندوں کا خیال ہے کہ چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال نے عوامی مقامات کو محفوظ بنایا ہے۔رواں ہفتے کے شروع میں، مقامی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ

چین کے شمال مشرقی صوبے ہنان کا دارالحکومت ڑینگ زو اپنے تمام سب وے ٹرین سٹیشنوں پر اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والا پہلا چینی شہر بن گیا ہے۔چینی اخبار کے مطابق اب مسافر اپنے فون پر کیو آر کوڈ سکین کرنے کے بجائے ادائیگیوں کو خود کار طریقے سے انجام دینے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔اس ماہ کے آغاز میں، ایک یونیورسٹی پروفیسر گیوو بنگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہانگزو سفاری پارک میں چہرے کی شناخت کرنے والے نظام کو نافذ کرنے پر اس کی اتظامیہ کے خلاف

مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔باقاعدگی سے پارک آنے والے پروفیسر گیو، برسوں سے پارک میں داخل ہونے کے لیے اپنے فنگر پرنٹ کا استعمال کرتے آئے ہیں لیکن اب وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔اس معاملے کی خبر سرکاری میڈیا پر دی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اس ٹیکنالوجی کے نجی استعمال پر تیار ہے اور اس بارے میں عوامی بحث و مباحثے کا جائزہ لے رہی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر، ایک نیا قانون لاگو کیا گیا تھا جس کے تحت موبائل فون صارفین کو اپنے موبائل سروس کمپنی کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرتے وقت اپنے چہروں کی سکینگ کروانا لازم قرار دی گئی تھی۔حکام کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سم کارڈز کی دوبارہ فروخت کو روکنا اور دھوکہ دہی کے خلاف لڑنا ہے۔لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو پولیس اور دیگرحکام کو عوام پر نظر رکھنے اور نگرانی کرنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…