اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

امریکہ کے ڈیم کنٹرول کے نظام پر ایرانی ہیکروں کے حملے کا انکشاف

datetime 27  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی ہیکروں نے نیویارک کے قریب ایک ڈیم کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر ہیک کر لیے ہیں۔اخبار کے مطابق سنہ2013 کے حملے میں کوئی نقصان تو نہیں ہوا تھا لیکن یہ معلومات ضرور افشا ہوئیں کہ سیلاب پر قابو پانے کا نظام کمپیوٹروں کے ذریعے سے کس طرح چلایا جا رہا تھا۔ایک دوسری رپورٹ میں امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا تھا کہ قومی ریاستوں کے لیے کام کرنے والے ہیکر باقاعدگی سے قومی بنیادی ڈھانچوں کے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ دہائیوں میں تقریباً 12 بار ہیکر اعلیٰ سطح کے پاور نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
تفصیلی منصوبہ بندیاں:
اس واقعے سے واقف ماہرین نے اخبار کو بتایا کہ ہیکروں نے نیویارک کے علاقے رائی میں موجود بومن ایونیو ڈیم کے متعلق جامع معلومات حاصل کر لی تھیں۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں حملے کے امکانی ذریعے کے طور پر ایران کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور امریکی حکام کو اس ملک کی سائبر جنگ کی نمایاں صلاحیتوں کے متعلق خبردار کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکروں کا وہی گروہ جس نے بومن ایونیو پر حملہ کیا تھا، وہ تین امریکی مالیاتی فرموں پر کیے گئے الگ الگ حملوں میں بھی ملوث تھا۔اے پی نے وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیقات میں بتایا کہ امریکی پاور نیٹ ورکس بھی متواتر ’جدید ترین غیر ملکی ہیکروں‘ کے حملوں کی زد میں رہے۔ایرانی ہیکروں نے نیویارک کے علاقے رائی میں موجود بومن ایونیو ڈیم کے متعلق جامع معلومات حاصل کر لی تھیںسکیورٹی کے حوالے سے کام کرنے والے محققین کو بہت مرتبہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ ہیکروں نے اِن حساس نظاموں تک رسائی میں کامیابی حاصل کی۔اب تک کی تحقیقات سے یہی معلوم ہوا ہے کہ تمام حملوں کا مقصد تفصیلی معلومات بشمول نیٹ ورکس اور ا±ن کی سہولیات کے متعلق انجینیئرنگ کے نقشے جمع کرنا تھا۔ایک وسیع پیمانے کی مہم نے ہیکروں کو امریکہ اور کینیڈا کے اطراف میں پھیلے 82 علیحدہ پلانٹس تک رسائی دی۔ جب اِن حملوں کا س±راغ لگایا گیا تو اِن کے کوڈ میں کیے تبصروں سے معلوم ہوا کہ اِن حملوں کے پیچھے ایرانیوں کا ہاتھ تھا۔حملوں کے اس سلسلے کی معلومات کی وجہ سے ایف بی آئی (فیڈرل بیورو آف انسویسٹی گیشن) نے توانائی کی صنعت کو انتباہ جاری کیا کہ ا±سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اے پی کے نامہ نگاروں گرینس برک اور جوناتھن فاہی لکھتے ہیں کہ حملہ آوروں سے جمع شدہ حقائق پاور پلانٹس کو بند کرنے کے لیے یا ا±ن کے کام کے طریقے کی تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔امریکی فضائیہ کے سائبر سیکورٹی ماہر روبرٹ لی نے ایجنسی کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات خرابی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو یہ معلومات نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…