بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی سائنسدان جوڑے نے زیرِآب چلنے والے ڈرونزکی کمپنی قائم کرلی

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

سڈنی آسٹریلیا(نیوز ڈیسک) پاکستانی سائنسدان جوڑے نے آسٹریلیا میں زیرِ آب ڈرون کمپنی قائم کی ہے جس سے زیرِآب ڈرون سے پانی کے اندر مقامات پر تحقیق اور نقشہ کشی کی جارہی ہے۔آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی سائنسدان ناصر احسان سمندری (مرین) روبوٹکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں جب کہ ان کی بیگم حنا احسان نے ڈیٹا تجزیہ ( اینالیٹکس) میں ماسٹرز کیا ہوا ہے ان کی ٹیم کے تیسرے رکن کا مسعود نقشبندی کا تعلق افغانستان سے ہے جو سینسر ٹیکنالوجی کے ماہرہیں اور چوتھے رکن ابراہیم قزاز لبنانی نڑاد آسٹریلوی ہیں جو سول انجینئر ہیں اور اب یہ چاروں آسٹریلوی شہریت رکھتے ہیں۔ناصر احسان پاکستان میں ہمالیہ کے دامن میں پیدا ہوئے اور وہاں موجود دریا اور جھیلوں کو دیکھ کر انہیں ان کی گہرائی ناپنے اور معلومات حاصل کرنے کا خیال آیا، اس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے پانی میں کام کرنے والے روبوٹس پر تعلیم حاصل کی اور اس کے ماہر ہوئے کیونکہ دنیا میں صرف چند لوگ ہی اس نئے شعبے پر مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے زیرِ آب روبوٹ ” ناٹیلس“ کو چلایا جس کے ذریعے سمندر کی تہہ میں گرم پانی خارج کرنے والی قدرتی چمنیوں ( تھرمل وینٹس) پر تحقیق کی گئی تھی جو سمندر کی غیرمعمولی گہرائی میں موجود ہیں۔ ناصر احسان نے ناٹیلس سے جڑے ایک اور روبوٹ ”ہرکولیس“ کو چلایا اور اس سے گہرے ترین سمندر کی حیرت انگیز تصاویر لی تھیں۔ناصر احسان نے ناسا کے ایک انجینیئر کے اوپن سورس پروجیکٹ اوپن آر او وی کو بھی آگے بڑھایا اور اپنی اسٹارٹ اپ کمپنی قائم کی اور زیرِ آب ڈرونز سے فش فارم ، پائپ لائن، آبی ذخیروں، ڈیم اور دیگر مقامات کی صفائی ، منصوبہ بندی اور زیرِ آب نقشہ سازی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان کا بنایا ہوا زیرِ آب ڈرون کیمروں کی مدد سے پانی کی گہرائی کا تھری ڈی نقشہ بناتا ہے جب کہ اس وقت وہ سڈنی واٹرز کے لیے اپنی خدمت فراہم کررہے ہیں جن کے پانی کے ذخائر کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ ناصر احسان کے مطابق زیرِ آب ڈرون پر سینسر لگا کر انہیں کئی اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…