جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مرد باپ بننے کے بعد زیادہ روایتی خیالات کے مالک بن جاتے ہیں, رپورٹ

datetime 30  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)گزشتہ صدی سے یہ موضوع مسلسل زیر بحث رہا ہے کہ بچوں کی پرورش اور تربیت میں ماں کا کردار کتنا اہم ہے، اسی حوالے سے پہلی بار باپ بننے والے مردوں کےخیالات پر مبنی ایک جائزہ رپورٹ بتاتی ہے کہ مرد باپ بننے کے بعد عورت کو ماں کے روایتی کردار میں دیکھنا پسند کرتا ہے۔مطالعے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ نئے باپ بچے کی پیدائش کے بعد عورتوں کے گھریلو کردار کےحوالے سے زیادہ دقیانوسی رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔سماجی سائنس سے وابستہ ماہرین نے اپنے مطالعے میں 1800 ہزار نئے والدین کو دیکھا۔ماہرین کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں کےحوالے سے مرد کی رائے بہت جلد تبدیل ہو گئی اور انھوں نے بچوں کی پرورش کےحوالے سے اپنی بیوی کو روایتی ماں کے روپ میں دیکھنا شروع کردیا تھا۔ماہرین نے کہا کہ اگرچہ روایتی صنفی رویہ پہلی بار ماں بننے والی عورتوں میں بھی ظاہر ہوا، لیکن وہ بچے کے بعد دوسرے بہت سے معاملات میں کافی فراخ دل بن گئی تھیں، لیکن اپنے خاندان کےحوالے سےخیالات کی تبدیلی مردوں میں زیادہ نمایاں تھی۔نئے مطالعے کے لیے محققین نے مردوں اور عورتوں سے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد، ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں بیانات کی شکل میں رائے پوچھی تھی۔سائنسی رسالے ‘چلڈرن اینڈ فیملی’ میں شائع ہونے والے مضمون میں آسٹریلوی محقق جینین بکسٹر کہتی ہیں کہ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ملازمت پیشہ ماں اور باپ کی جانب سے برابری کی سطح پر گھریلو ذمہ داریوں اٹھانے کے حوالے سے بڑا اختلاف ظاہر ہوا۔اگرچہ عورتوں نے اس خیال سے اتفاق کیا تھا ،لیکن اس کے باوجود ان میں اختلاف کی شرح 1.6سے بڑھ کر 1.8تک پہنچ گئی۔اس نتیجہ کے برعکس مرد جنھوں نے پہلے سے گھریلو ذمہ داریوں میں اشتراک کی کم حمایت کی تھی، ان میں اختلافی شرح 2.1 سے 2.3 تھی ۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعدعورتوں نے 4 فیصد زیادہ اس خیال کی حمایت کی، کہ ایک ملازمت پیشہ ماں گھریلو ماں کی طرح اپنے بچے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرسکتی ہے، جبکہ مردوں کی طرف سے اس خیال کی حمایت 0.1 فیصد تھی ۔کوئنز یونیورسٹی میں ‘انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس ریسرچ’ سے وابستہ پروفیسر بکسٹر کا کہنا تھا کہ نئے باپ کی حیثیت سے مرد ماں کے روایتی کردار کےحوالےسے اپنے خیالات میں مسلسل روایتی بن رہے تھے۔پروفیسر بکسٹر کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کا مطالعہ آسٹریلین والدین پر کیا گیا ہے، لیکن یہ نتائج برطانیہ میں بھی درست ثابت ہوں گے،اس کے علاوہ دیگر مغربی معاشروں جیسا کہ امریکہ ،کینیڈا وغیرہ کے اعداد وشمار کی مدد سے بھی ایک جیسے نتائج دیکھے جاسکتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہےکہ بچے کی پیدائش کے بعدخیالات میں اس طرح کی تبدیلی کے آجانے کی وجوہات دراصل ثقافتی تھیں ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مردوں کے زیادہ روایتی ہونے کے بارے میں حیاتیاتی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ روئیے کی یہ تبدیلی خاص طور پر غیر مغربی معاشرے میں دکھائی نہیں دیتی ہے۔ جہاں بچوں کی دیکھ بھال میں ناصرف ماں اور باپ بلکہ پورا خاندان حصہ لیتا ہے،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کلچرل رجحان ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…