جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکی طالبعلم نے اصلی خوبیوں والا سٹیو م بناڈالا

datetime 21  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )فلاڈیلفیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جیکسن گورڈن کی عمر اگرچہ صرف21برس ہے تاہم ان کے کارنامے نے انہیں ہر عمر کے لوگوں میں مقبول بنا دیا ہے۔جیکسن کو معروف کارٹون کردار بیٹ مین نے اس قدر متاثر کیا ہے کہ انہوں نے ویسا ہی ایک کاسٹیوم بنا ڈالا جسے زیب تن کرنے والا بیٹ مین کی مانند ہی کارنامہ کرسکتا ہے۔ گورڈن کے پاس دھاتی پٹیوں والا ایک سوٹ ہے جو چھوٹے موٹے ہتھیاروں کیخلاف ڈھال بھی فراہم کرتا ہے۔ گورڈن کہتے ہیں کہ وہ پانچ برس سے کاسٹیومز کی تیاری کا کام کررہے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے ڈارک نائٹ میں استعمال کئے گئے بیٹ سوٹ کی نقل تیار کی تھی۔ گورڈن کو یہ نقل بے حد بھائی لیکن نہ تو یہ اصلی لباس کی مانند تھی اور نہ ہی اس مین ویسی کوئی خوبی موجود تھی، جو کہ اصل بیٹ سوٹ میں تھیں۔ گورڈن کہتے ہیں کہ اس سوٹ کو تیار کرنے سے مجھے جس قدر خوشی ملی تھی، اسے پہن کے میں اسی قدر پریشان ہوجاتا تھا کیونکہ اس میں میرا چلنا پھرنا محدود ہوجاتا تھا جسکی وجہ سے میں خود کو کردار کی مانند تو کیا، اصل انسان بھی نہ محسوس کرپاتا تھا۔
ستمبر2014میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک اور ایسا ہی سوٹ تیار کریں گے تاہم وہ ان کی حرکت کرنے کی راہ میں رکاوٹ بھی نہیں ہوگا اور انہیں ویسا ہی تحفظ بھی فراہم کرے گا جو کہ بیٹمین کا اصل سوٹ فراہم کرتا ہے۔ اصل بیٹ سوٹ بنانے کا مطلب ایسا لباس تھا جو کہ چاقو، چھری کے وار سہہ سکے، مکے یا بیس بال کے بیٹ سے لگائی جانے والی ضرب کے خلاف تحفظ دے اور ساتھ ہی ہلکا پھلکا بھی ہو اور ایسا ہو کہ اسے پہنا عملی طور پر ممکن ہو۔ ان تمام خوبیوں کے حامل لباس کا مطلب مہنگے میٹریلز کی خریداری تھی جو کہ گورڈن کیلئے مسئلہ تھی۔ گورڈن نے اس کیلئے انٹرنیٹ پر ایک مہم شروع کی۔ ان کا خیال تھا کہ کسی کو ان کے اس خواب میں کوئی دلچسپی نہ ہوگی تاہم ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب صرف 6دن میں انہوں نے1255ڈالرز جمع کرلئے۔ بیٹ سوٹ کے لئے ضروری تھا کہ جن حصوں میں دھات استعمال نہ کی جائے، وہ بھی کسی حد تک تحفظ فراہم کریں۔ ساتھ ہی ان کو یہ ڈر بھی تھا کہ ان کے منتخب کردہ میٹیریل سے تیار کا گیا سوٹ کیا اس قابل ہوسکے گا کہ وہ اسے سارا دن پہن کے باآسانی سانس بھی لے سکیں۔
گورڈن نے لباس کے اہم حصوں میں فوم کی ایک خاص قسم استعمال کی جس سے چوٹوں سے بچاو¿ بھی ممکن ہوا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پولی کاربونیٹ اور پی وی سی میٹریل پر تجربے سے ایک ایسی سخت پلیٹس تیار کیں جو کہ گولی کے سوا حملے میں استعمال کئے جانے والے دیگر ہتھیاروں کو آسانی سے سہہ لیتا ہے۔ بیٹ مین کے سر کو بچانے کیلئے مخصوص خود کی تیاری گورڈن کے محدود وسائل میں ممکن نہ تھی سو انہوں نے پلاسٹک کی مدد سے اپنے سر کے سائز کا ایک مولڈ تیار کیا۔ اسکے اوپر مختلف قسم کی مٹی اور نرم پلاسٹک کی مدد سے بیٹ مین کا خود تیار کرلیا۔ اس کے علاوہ بیٹ مین کی جیکٹ سلیکون کی تیار کی گئی تھی۔ گورڈن کا یہ لباس اس قدر مقبول ہوا ہے کہ تقریباً پچاس کے قریب آرڈرز انہیں اس لباس کی نمائش کے فوری بعد مل چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کاپی رائٹس قوانین کی وجہ سے گورڈن کا یہ لباس اگرچہ کمرشل سطح پر کامیاب تو ہوسکتا ہے تاہم اسے وہ اپنے نام سے بطور ٹریڈ مارک رجسٹر نہیں کرواسکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…