جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نام شخصیت پر واقعی اثر انداز ہو سکتا ہے ،تحقیقی رپورٹ

datetime 5  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بچوں کے منفرد نام رکھنے کا رجحان صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں عام ہے۔ والدین دیومالائی قصے کہانیوں، فلموں کے کرداروں کے نام بخوشی رکھتے ہیں جبکہ کچھ محض انفرادیت کی خاطر بالکل نئے الفاظ ڈھونڈ لاتے ہیں۔ حال ہی میں سائنسی ماہرین نے ایک تحقیق پیش کی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ انسانی شخصیت اور ناموں کے بیچ کا تعلق محض انہیں ایک انفرادی پہچان دینے کی حد تک نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات زندگی بھر انسانی شخصیت پر مختلف انداز میں جاری رہتے ہیں۔ پی بی ایس ڈجیٹل سٹوڈیوز کی تیار کردہ برین کرافٹ سیریز کی ایک ویڈیو میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ دراصل ناموں اور شخصیت کے بیچ تعلق ان حروف سے پیدا ہوتا ہے جو کہ مل کے نام بناتے ہیں۔ ان الفاظ اور ان کی آواز کا شخصیت پر ایک خاص انداز کا اثر ہوتا ہے جو کہ کسی بھی فرد کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ان الفاظ کی آواز سے ملتی چیزیں، جگہیں، لوگ وغیرہ کا شخصیت سے خاص طرز کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ ناموں میں موجود الفاظ سے جن افراد کا تعلق ہو، ہم انہی کی جانب زیادہ کشش محسوس کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا اہتمام تین محققین نے کیا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تینوں کو ”پول مین “ کے نام سے تلفظ کیا جائے گا تاہم اسے لکھنے کیلئے الفاظ مختلف ہیں۔
ان محققین کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی ایک گروہ میں شامل افراد خواہ وہ طلبا ہوں یا کسی گھر کے افراد، اگر ان کے ناموں کے ابتدائی حروف ایک جیسے ہوں تو ان کے بیچ آپس میں تعاون سے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ گویا اگر کلاس میں استاد ایک جیسے ابتدائی حروف کے حامل طلبا کو اکھٹا کرتے ہوئے کسی اسائنٹمنٹ کی تیاری کا کام سونپتا ہے تو ایسے میں ان کی کارکردگی یقینی طور پر بہتر ہوگی۔ اسی طرح ناموں کا اثر کاروبار پر بھی پڑتا ہے۔ نام کسی بھی فرد پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سینٹ لوئس میں لوئس نام کے افراد کی غیر معمولی تعداد پائی گئی جبکہ فلاڈیلفیا میں فلپس اور ورجینیا بیچ میں ورجینیا نام کے لوگ بڑی تعداد میں پائے گئے۔ امکان ہے کہ کسی بھی مقام پر رہنے والے افراد میں اسی مقام سے ملتا جلتا نام رکھنے کی وجہ اس جگہ کیلئے کشش ہے تاہم ماہرین نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ والدین محض اس وجہ سے بچوں کا نام اسی مقام سے ملتا جلتا رکھ دیتے ہیں تاکہ انہیں یاد رکھنے میں سہولت رہے۔ والدین کا اپنے نام سے ملتے جلتے نام کیلئے بھی ماہرین یہی توجیح پیش کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مشہور ہالی وڈ جوڑی ول سمتھ اور جاڈا پنکٹ کی ہے جن کے بچوں کے نام جاڈین، ولو اور ولارڈ ہیں۔
اس تحقیق کیلئے ماہرین نے امریکہ اور کینیڈا میں سوشل سیکیورٹی کا ریکارڈ جانچ کے اندازے قائم کئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے لوگوں کے نام، ان کی جائے پیدائش یا جائے رہائش، پیشہ اور دیگر عوامل کے بیچ ممکنہ تعلقات کو جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔ ماہرین نے اس مشاہدے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ بہت سے لوگ ایسے پیشوں کا انتخاب بھی کرتے ہوئے پائے گئے جن کا تعلق ان کے نام سے کسی حد تک قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس دعوے کو اگر اہمیت دی جائے تو والدین اپنے بچوں کیلئے اچھے اچھے اور بامعنی نام منتخب کرتے ہوئے ان کے مستقبل کو سنوارنے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام میں بامعنی ناموں کی بے حدحکمت بتلائی گئی ہے اور لوگوں کو تلقین کی گئی ہے کہ لوگوں کو اچھے اچھے ناموں سے پکاریں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…