اسلام آباد (نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے پانچ سالہ ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی شہریوں کے لیے اہم سہولت متعارف کرا دی ہے
نئے نظام کے تحت اب درخواست گزار کو ویزا حاصل کرنے کے لیے کسی مقامی اسپانسر یا میزبان کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم مالی استطاعت ثابت کرنا لازمی ہوگا۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز دبئی (GDRFA) نے اس ویزے کی شرائط اور درخواست کا مکمل طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت دنیا بھر کے شہری پانچ سال تک بار بار متحدہ عرب امارات کا سفر کر سکیں گے۔
اس ویزے کے ذریعے ہر مرتبہ زیادہ سے زیادہ 90 روز قیام کی اجازت ہوگی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 90 دن کی توسیع بھی حاصل کی جا سکے گی۔ تاہم ایک کیلنڈر سال کے دوران مجموعی قیام 180 دن سے زیادہ نہیں ہو سکے گا۔
یہ ویزا خاص طور پر ایسے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو سیاحت، کاروباری مصروفیات یا اہل خانہ سے ملاقات کے لیے بار بار یو اے ای کا سفر کرتے ہیں۔
درخواست کے لیے کم از کم چھ ماہ تک کارآمد پاسپورٹ، حالیہ پاسپورٹ سائز تصاویر، ہیلتھ انشورنس، واپسی کا ٹکٹ اور گزشتہ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ضروری ہوگا۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس کے بینک اکاؤنٹ میں کم از کم 4 ہزار امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم موجود رہی ہے۔
ویزا درخواستیں یو اے ای کے سرکاری آن لائن پورٹلز، اسمارٹ ایپس، کسٹمر ہیپی نیس سینٹرز اور عامر سروس سینٹرز کے ذریعے کسی بھی وقت جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ درخواست گزار کو فارم مکمل کرنے، مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے اور مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد درخواست جمع کرانی ہوگی۔
حکام کے مطابق پانچ سالہ ٹورسٹ ویزا کی مجموعی فیس 3 ہزار 713 درہم مقرر کی گئی ہے، جس میں ویزا فیس، سروس چارجز اور قابلِ واپسی سیکیورٹی ڈپازٹ شامل ہیں، البتہ بعض اضافی تقاضوں کی صورت میں یہ رقم مختلف ہو سکتی ہے۔
یو اے ای حکام نے ویزا ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت سے زیادہ قیام سے گریز کریں اور اپنے داخلے اور روانگی کا ریکارڈ باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی جرمانے یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت دنیا کے تمام ممالک کے شہری اس ویزے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے، جبکہ اسپانسر کی شرط ختم ہونے سے بین الاقوامی مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات کا سفر مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔



















































