بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دبئی کا بڑا اعلان، سیاح بغیر میزبان کے پانچ سالہ ویزا حاصل کر سکیں گے

datetime 17  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے پانچ سالہ ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی شہریوں کے لیے اہم سہولت متعارف کرا دی ہے

نئے نظام کے تحت اب درخواست گزار کو ویزا حاصل کرنے کے لیے کسی مقامی اسپانسر یا میزبان کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم مالی استطاعت ثابت کرنا لازمی ہوگا۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز دبئی (GDRFA) نے اس ویزے کی شرائط اور درخواست کا مکمل طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت دنیا بھر کے شہری پانچ سال تک بار بار متحدہ عرب امارات کا سفر کر سکیں گے۔

اس ویزے کے ذریعے ہر مرتبہ زیادہ سے زیادہ 90 روز قیام کی اجازت ہوگی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 90 دن کی توسیع بھی حاصل کی جا سکے گی۔ تاہم ایک کیلنڈر سال کے دوران مجموعی قیام 180 دن سے زیادہ نہیں ہو سکے گا۔

یہ ویزا خاص طور پر ایسے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو سیاحت، کاروباری مصروفیات یا اہل خانہ سے ملاقات کے لیے بار بار یو اے ای کا سفر کرتے ہیں۔

درخواست کے لیے کم از کم چھ ماہ تک کارآمد پاسپورٹ، حالیہ پاسپورٹ سائز تصاویر، ہیلتھ انشورنس، واپسی کا ٹکٹ اور گزشتہ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ضروری ہوگا۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس کے بینک اکاؤنٹ میں کم از کم 4 ہزار امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم موجود رہی ہے۔

ویزا درخواستیں یو اے ای کے سرکاری آن لائن پورٹلز، اسمارٹ ایپس، کسٹمر ہیپی نیس سینٹرز اور عامر سروس سینٹرز کے ذریعے کسی بھی وقت جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ درخواست گزار کو فارم مکمل کرنے، مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے اور مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد درخواست جمع کرانی ہوگی۔

حکام کے مطابق پانچ سالہ ٹورسٹ ویزا کی مجموعی فیس 3 ہزار 713 درہم مقرر کی گئی ہے، جس میں ویزا فیس، سروس چارجز اور قابلِ واپسی سیکیورٹی ڈپازٹ شامل ہیں، البتہ بعض اضافی تقاضوں کی صورت میں یہ رقم مختلف ہو سکتی ہے۔

یو اے ای حکام نے ویزا ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت سے زیادہ قیام سے گریز کریں اور اپنے داخلے اور روانگی کا ریکارڈ باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں تاکہ کسی بھی جرمانے یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

نئی پالیسی کے تحت دنیا کے تمام ممالک کے شہری اس ویزے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے، جبکہ اسپانسر کی شرط ختم ہونے سے بین الاقوامی مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات کا سفر مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…