جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

محکمہ داخلہ پنجاب کا اہم اقدام، قیدیوں کو بڑی سہولت مل گئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی)وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے اہم اقدام کرتے ہوئے جیل میں قیدیوں کے پی سی او فون سروس استعمال کے بارے میں اصول و ضوابط جاری کر دیے۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قیدیوں کو عزیز و اقارب اور وکلاء سے رابطے کیلئے آڈیو، ویڈیو کال کی سہولت دی گئی ہے، قیدی پیر تا ہفتہ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پی سی او استعمال کر سکتے ہیں، جیل سپرنٹنڈنٹ تمام اسیران کو پی سی او سہولت فراہم کرنے کیلئے ہفتہ وار شیڈول جاری کریگا۔

اس میں کہا گیا کہ ہر قیدی رابطے کیلئے زیادہ سے زیادہ 5 فون نمبر سسٹم میں رجسٹر کروا سکتا ہے، قیدی کو صرف خونی رشتہ داروں، اہلیہ اور لیگل کونسل سے رابطے کی اجازت ہے، سسٹم آپریٹر قیدی کی درخواست پر اْسی دن سپرٹنڈنٹ جیل سے تصدیق کے بعد پی سی او کی سہولت فراہم کریگا، دہشتگردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث مجرمان کے علاوہ تمام قیدیوں کو پی سی او استعمال کی اجازت ہے۔بیان کے مطابق اسیران کو ایک ہفتے میں 60 سے 80 منٹ پی سی او استعمال کی اجازت ہو گی، متعلقہ بیرک انچارج کی تصدیقی سلپ پر ہی ہر قیدی کو پی سی او استعمال کی اجازت ملے گی، پی سی او استعمال کیلئے قیدی اپنے پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پی پی اکاؤنٹ سے رقم منہا کروائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ 18 سال سے چھوٹے اور نادار اسیران کو پی سی او کی سہولت مفت فراہم کی جائیگی، جیل جرائم میں ملوث افراد یا نقص امن کے خطرے کے پیشِ نظر سپرنٹنڈنٹ کسی قیدی کی پی سی او سہولت بند کر سکتا ہے، متعلقہ ڈی آئی جی ریجن اطلاع موصول ہونے کے 3 یوم میں مناسب وجوہات کی روشنی میں پی سی او سہولت بحال کر سکتا ہے۔

محکمہ داخلہ نے بتایا کہ جیل جرائم کے مرتکب قیدی کو پنشمنٹ بلاک میں بند کیا جائے گا اور پی سی او سہولت عارضی طور پر بند رہے گی، کسی قیدی کو کانفرنس کال کی اجازت نہیں ہو گی، انچارج اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل دورانِ کال کسی بھی نازیبا یا قابل اعتراض گفتگو پر کال منقطع کرنے کا مجاز ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ نازیبا، ملک دشمن اور قابل اعتراض گفتگو پر متعلقہ قیدی کی پی سی او سہولت عارضی طور پر بند ہوگی، جیل سپرنٹنڈنٹ کسی قیدی کی پی سی او سہولت ایک ماہ تک بند کر سکتا ہے اس سے زیادہ مدت کی اجازت ڈی آئی جی ریجن دے گا۔محکمہ داخلہ نے بتایا کہ کوئی بھی قیدی فون بوتھ سے 6 ملا کر آئی جی جیل خانہ جات کمپلینٹ سیل میں مفت شکایت درج کروا سکتا ہے، خواتین، نوعمر اور سزائے موت کے قیدیوں کا پی سی او بوتھ انکے اپنے بارک میں ہو گا، تمام کالز کا ریکارڈ کم از کم ایک ماہ تک محفوظ رکھا جائے گا، ایک اسیر کا صرف ایک پی سی او اکاؤنٹ بنایا جائیگا اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کیخلاف کارروائی ہوگی۔بیان میں کہا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل ماہانہ بنیادوں پر پی سی او سسٹم کی کمپیوٹرائزڈ فنانشل رپورٹ پریزن فاؤنڈیشن کو بھجوائے گا، سیکرٹری داخلہ پنجاب نے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…