ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

فیصل آبادمیں 38سال سے ایک ہی جیسے کپڑے پہننے والا ’کپل آف فیصل آباد

datetime 9  مئی‬‮  2023 |

مکوآنہ (این این آئی)شادی پسند کی بھی ہو تو کچھ عرصے بعد محبت کا بھوت سر سے اتر جاتا ہے لیکن ’کپل آف فیصل آباد‘ کے نام سے مشہور مسٹر اینڈ مسز ناصر نے گذشتہ 38 سال سے ایک جیسے رنگ اورڈیزائن کے کپڑے پہن کر ایسی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی دوسری کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔یہ منفرد جوڑا شہر کی ہر اہم ادبی اور ثقافتی تقریب کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے،

جو اپنے ذوق، لباس اور گفتگو کی وجہ سے ہر جگہ مرکز نگاہ بن جاتا ہے۔مسز شگفتہ ناصر نے اس حوالے سے این این آئی سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اپنے لباس سے امن کا پیغام اور محبت کی تبلیغ کرتے ہیں۔’جب ہماری شادی ہوئی تو ہمیں تقریباً ایک سال یہ سوچنے میں لگا تھا کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جو پہلے کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔ پھر یہ فیصلہ ہوا کہ لباس ایسا پہنا جائے۔‘انہوں نے بتایا کہ ایک جیسا لباس بنانے کے لیے مردانہ کپڑا لیتے ہیں جس کے بعد کلر سکیم اور ڈیزائننگ کا مرحلہ آتا ہے۔شگفتہ ناصر اپنے کپڑوں کی ڈیزائننگ زیادہ تر خود ہی کرتی ہیں اور جہاں پر انہیں سمجھ نہیں آتی تو وہ اپنے شوہر سے مدد لیتی ہیں۔انہوں نے بتایا: ’درزی سپیشل ہے، ان کے لیے مرد اور میرے لیے خاتون۔ درزی ہمارے الگ الگ ہیں لیکن یہ ہے کہ جب ڈیزائننگ ہو جاتی ہے تو درزی کو بھی سمجھانا پڑتا ہے کہ اس طرح ڈیزائن بنانا ہے اور اس طرح سے آپ نے سلائی کرنی ہے۔‘شفگتہ کے مطابق جب انہوں نے ایک جیسا لباس پہننا شروع کیا تو سوشل میڈیا اتنا زیادہ عام نہیں تھا، اس لیے لوگوں کو اتنا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا کی وجہ سے وہ زیادہ مشہور ہو گئے ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر بہت سراہتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’کپل آف فیصل آباد‘ کا ٹائٹل انہوں نے خود اپنے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ ایک تقریب کے دوران انہیں یہ ٹائٹل دیا گیا جو اب ان کی پہچان بن چکا ہے اور انہیں مختلف پروگرامز یا تقریبات میں اسی حوالے سے مدعو کیا جاتا ہے۔اس بارے میں محمد ناصر نے شریک گفتگو ہوتے ہوئے بتایا کہ جب سے انہوں نے ایک جیسا لباس پہننا شروع کیا ہے کافی لوگوں نے کوشش کی کہ وہ بھی اس طرح ایک جیسا لباس پہنیں لیکن کوئی ایک، دو سال سے زیادہ ایسا نہیں کر سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…