کراچی (آن لائن) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ 4 سال کی غفلت 4 ماہ میں ٹھیک نہیں ہوتی،انصاف کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے،احتساب کرنے والوں کو خود سب کے سامنے حساب دینا ہوتا ہے۔سابق چیئرمین نیب عوام کو حقائق بتائیں،یہ معاملات ایسے نہیں چلتے ایک دن ان کو حساب دینا ہوگا،جواب حکومتیں نہیں لیتی ہیں بلکہ عدالتیں لیتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں کو تعین اوگرا اور بجلی کے معاملات نیپرا دیکھتا ہے حکومت نہیں۔نیب سے پوچھا جائے کہ جھوٹے کیس کس کے کہنے پر بنائے گئے؟سابق چیئرمین نیب نے لوگوں کی زندگیاں خراب کی ہیں وہ جواب دہ ہیں۔عدالتوں میں لوگ 6،6 سال سے کیسز چلاتے ہیں،ہم کہتے ہیں کہ انصاف کے نظام کو چلنا چاہیے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں حکومت نہیں اوگرا طے کرتی ہے،اوگرا عالمی منڈی کی قیمتیں اور دیگر عنصر کو شامل کرکے قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔بجلی کے معاملات نیپرا کا ادارہ دیکھتا ہے حکومت نہیں دیکھتی،نیپرا اور اوگرا آزاد ادارے ہیں۔پہلے 30 دن بعد تیل کی قیمت کا تعین کیا جاتا تھا،اب ہر 15 روز بعد تیل کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تیل میں کوئی سیلز ٹیکس شامل نہیں ہے،حکومت جتنا ریلیف عوام کو دے سکتی ہے دے رہی ہے،امید ہے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سینیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی تقرری کے ملک اور فوج پر منفی اثرات ہوں گے۔ کیا سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج کو چیف جسٹس بنانے کا تجربہ درست ثابت ہوا؟ سابق وزیر اعظم نے کہا آرمی چیف کی مدت میں توسیع پر تنقید ہوتی ہے مگر کسی آرمی چیف کی تعیناتی پر نہیں ہوئی۔امریکی سازش سے متعلق پوری منصوبہ بندی عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے کی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے حکومتی معاملات میں مداخلت کی اور سائفر بدل کر تاثر دینے کی کوشش کی کہ کوئی حکومت عمران خان کے خلاف یہ کر رہی ہے۔