جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک سے معاہدہ ، پنجاب پولیس کا اظہار ناراضگی قربانی کا بکرا بنانے پر حکومت سے شکوہ کردیا

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے تحریک کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ 2روز بعد ہی ان سے معاہدہ کر لیا۔لیکن اس معاہدے کو لے کر پولیس افسران میں خاصی تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ دھرنے کے دوران سینکڑوں پولیس اہلکار نہ صرف شدید زخمی ہوئے بلکہ پانچ پولیس اہلکاروں نے اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔میڈیا رپورٹس کے

مطابق حکومت پنجاب اور تحریک کے مابین ہونے والے معاہدے پر پنجاب پولیس کی سینئر کمانڈ پریشان دکھائی دیتی ہے۔کچھ سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے فیصلے نے نہ صرف پولیس فورس کو مایوسی کا شکار کیا بلکہ ایسے گروپوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ریاست کسی بھی دبائوپر کسی بھی وقت پیچھے ہٹ سکتی ہے۔پولیس افسران نے متنبہ کیا کہ تحریک کے سینکڑوں کارکنوں کی بغیر کسی سزا کے رہائی آپریشن میں حصہ لینے والوں کے لیے اچھی ثابت نہیں ہو گی۔اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے پولیس فورسز کی قربانیوں کو رسوا کیا جسے ہمیشہ قربانی کا بکرا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یکے بعد دیگرے حکمران پولیس کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔پہلے پولیس کو احکامات دیے جاتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ایک پنجاب پولیس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی سینئر

کمانڈ نے متعدد رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں کارکنوں کی رہائی کے لئے حکومت کے معاہدے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔خاص طور پر پنجاب پولیس افسران کا ردعمل اس وقت سامنے آیا جب وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے معاہدے کی تفصیلات پڑھ کر اس سلسلے میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ویڈیو میں وفاقی وزیر نے تمام کارکنوں کی رہائی پر اتفاق کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…