جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

میں خود نیب کے ریڈار میں ہوں، کابینہ کے دیگر موجودہ اراکین کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے،جہانگیر ترین بارے غلام سرور خان نے اہم بات کر دی

datetime 9  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ چینی اسکینڈل کے حوالے سے کارروائی صرف جہانگیر ترین نہیں دیگر شوگر ملز مالکان کے خلاف بھی ہونی چاہیے۔ایک انٹرویومیں غلام سرور خان نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پارٹی کیلئے بے پناہ خدمات ہیں اور انہوں نے یہی کہا میں تحریک انصاف سے

انصاف کا متقاضی ہوں، انصاف ہماری پارٹی کا نام بھی ہے اور ہمارا منشور بھی ہے اس لیے اسے بلاتفریق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ جہانگیر ترین سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، سندھ میں بیشتر شوگر ملز آصف زرداری اور ان کے گروپ کی ہیں، پنجاب میں اکثر ملز نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کی ہیں، اگر چینی کے معاملے میں کوئی گڑبڑ ہے تو میرے خیال میں ان لوگوں کا جہانگیر ترین سے زیادہ اہم کردار ہوگا، ان لوگوں کے خلاف جب کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تو لوگ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جہانگیر ترین سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے، وہ تحریک انصاف میں ہیں اور رہیں گے، اگر ان کے خلاف کچھ غلط ہو رہا ہے تو وہ عدالت گئے ہیں اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ انصاف ہو اور ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں سیاسی، نظریاتی اور کارپوریٹ سیکٹر کے پروفیشنلز بھی ہیں اور ہر کسی نے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں، ہم جیسے دیہی ثقافت کی نمائندگی کرنے والے اور دیگر لوگوں کا کارپوریٹ سیکٹر کے لوگوں سے مختلف معاملات پر اختلاف رائے رہتا ہے، بدقسمتی سے ہم چونکہ دیہی پس منظر کے لوگ ہیں اس لیے ہماری آواز اس طرح نہیں سنی جاتی جس طرح کاروباری طبقے کی سنی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں

پالیسیاں عوام کے لیے بنتی ہیں تاہم کارپوریٹ سیکٹر کی پالیسی حاوی ہوجاتی ہے جس کا وزیر اعظم کو بھی ادراک ہے۔حکومت کی کارکردگی اور مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال میں وزیر اعظم عمران خان نے کافی کچھ سیکھا ہے، ان کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی اور اب بدلا ہوا وزیر اعظم اور بدلی ہوئی کابینہ نظر آئے

گی، ہم غلطیاں دور کرکے اپنی اصلاح کریں گے اور بہتر پالیسیاں لا کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے۔احتساب کے عمل سے متعلق انہوںنے کہاکہ احتساب بلاامتیاز ہو رہا ہے، میں خود نیب کے ریڈار میں ہوں، کابینہ کے دیگر موجودہ اراکین کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے، ہمارے دو وزرا علیم خان اور سبطین خان جیل گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…