جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پی ڈی ایم کی تمام 9جماعتوں کے ’’باپوں‘‘ پر ایک ’’باپ‘‘ سب پر بھاری ثابت ہوا ،پاکستانی سیاست میں اب ’’باپ‘‘ کا کردار پوشیدہ نہیں رہا، حافظ حسین احمد کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 8  اپریل‬‮  2021 |

کوئٹہ /کراچی(این این آئی) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما ممتاز پارلیمنٹرین اورسابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ماضی میں سیاسی معاملات میں ’’باپ‘‘ کا کردار بظاہر پوشیدہ رکھا جاتا تھا لیکن اب پاکستانی سیاست میں ’’باپ‘‘ کا کردار پوشیدہ نہیں رہا،دراصل پی ڈی ایم میں انتشار کی اصل ذمہ داری کا سہرا ان

دو نا تجربہ کار موروثی بیٹے اور بیٹی کے ’’باپ‘‘ کے سر ہے۔ جمعرات کے روز کراچی اور جیکب آباد کے صحافیوں سے موجودہ سیاسی صورتحال پراپنے مخصوص انداز میں دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’باپ‘‘ تو بہانہ تھا لیکن پی ڈی ایم کا خاتمہ درحقیقت دو ’’باپوں‘‘ کے مختلف بیانیہ اور مفادات کی وجہ سے ہوا ہے، ’’ باپ ‘‘ اگر ’’مائی باپ‘‘ کے کہنے پر ووٹ نہ کرتا تو ’’باپ‘‘ کے ساتھ دو بیمار ’’باپوں‘‘ کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن سکتا تھا،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر ’’باپ‘‘ سے ووٹ لینے پر اعتراض کرنے والے خود ’’مائی باپ‘‘ سے اعلانیہ خفیہ ملاقاتیں کررہے ہیں، لندن والے بڑے میاں کے معاملہ میں بھی ایک ’’باپ‘‘ کا مسئلہ ہے جبکہ پاکستانی چھوٹے میاں پہلے ہی مسلسل رابطہ رکھ کر ’’مائی باپ‘‘ کو اپنا ’’باپ ‘‘ تسلیم کرچکے ہیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ کوئی ’’باپ‘‘ سے ووٹ لیتا ہے تو کوئی ’’مائی باپ‘‘ کو ایکسٹینشن کے چکر میں ووٹ دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سارا مسئلہ سیاستدانوں کے ’’پاپ‘‘ یعنی ’’کرپشن ‘‘ کا ہے ، پی ڈی ایم کی تمام 9جماعتوں کے ’’باپوں‘‘ پر ایک ’’باپ‘‘ سب پر بھاری ثابت ہوا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی ممکنہ سیاسی صف بندی کے باعث جیل میں بند رہنما پہلی صف میں باقی سب ’’سیاسی وینٹی لیٹر‘‘ پر ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…