جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جنہوں نے گیلانی کو نااہل کروایا، انہی کے ووٹوں سے ہم انہیں پارلیمنٹ لے آئے، بلاول کے طنزیہ وار

datetime 5  اپریل‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاڑکانہ(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جمہوری انداز میں تحریک کیسے چلانی ہے، یہ صرف ہم جانتے ہیں۔ جلسوں اور ٹرینوں میں کٹھ پتلی حکومت کو للکارا، اسی تسلسل کو لے کر پنجاب حکومت گراتے تو وفاق کے سلیکٹڈ خود ہی بھاگ جاتے،پیپلزپارٹی جماعت اتحادیوں سے مل کر یا اکیلے

ہی اپوزیشن کیلئے تیار ہے،ہم کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے، اقتدار میں آنے سے قبل ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر کا وعدہ کرنے والے عمران خان نے تین سال میں عوام کو تاریخی بیروزگاری میں دھکیل دیا ہے اور عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے جن کے پاس روزگار تھا، آج ان کے پاس روزگار نہیں ہے، ان صاحب کے دور میں ہماری معاشی ترقی بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی کم ہے اور ہماری مہنگائی کی شرح وہ افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہے، ہمارے ساتھ جو بھی ہوا، بڑے مقصد کی لڑائی کے لیے سب کچھ بھولنے کو تیار ہوں۔ شہید محترمہ نے انہی لوگوں کے ساتھ کام کیا جنہوں نے آصف زرداری پر تشدد کیا اور جلا وطن کیا تھا۔ یہ صرف جمہوریت کی بحالی کے لیے کیا گیا تھا۔ آج دس سال بعد ہم واپس یوسف رضا گیلانی کو پارلیمان بھیج رہے ہیں۔ انہیں جماعتوں نے یوسف رضا گیلانی کو نااہل کیا، آج انہیں کے ووٹوں سے سینیٹر بھی بنے، پاکستان تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہمیں پاکستان کے عوام کے لیے ووٹ کی آزادی کو بحال کرتے ہوئے انہیں معاشی آزادی بھی فراہم کرنی ہے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ہمیں ووٹ کی آزادی کو تحفظ دلانا ہے اور بحال کرنا ہے اور وہ

معاشی آزادی بھی دلانی ہے جو ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور آئی ایم ایف کی ڈیل کے نتیجے میں ہر پاکستانی کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، تو آج ہر پاکستانی کو ہمیں مہنگائی، بیروزگاری، غربت سے آزادی دلانی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ جمہوری و انسانی حقوق کی بات ہو یا معاشی حقوق کی بات ہو، اگر پاکستان کے عوام کو یہ حقوق ملے ہیں تو

صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ملے ہیں اور کسی دور میں نہیں ملے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ کٹھ پتلی نظام ایکسپوز ہو چکا تھا، اسی تسلسل کو آگے لے کر چلنا چاہیے تھا۔ عمران خان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شکست دی۔ پیپلز پارٹی کی پوری تنظیم نے لانگ مارچ کے لیے بڑی محنت کی تھی۔ اسی ماحول میں لانگ مارچ ہونا تھا۔ پنجاب میں سلیکٹڈ وزیراعلی کو گرا کر آگے بڑھتے اور اسلام آباد پہنچتے تو یہ خود ہی بھاگ جاتے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…