جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو جہانگیر ترین پر دو باتوں کا بہت شدید غصہ ہے اس لئے یہ کارروائی شروع کی گئی ہے

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد، لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )سینئر صحافی ہارون رشید نے وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین تعلقات ایک بار پھر خراب ہونے کا عندیہ دیدیا۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ اب تو پی ٹی آئی میں کرپشن ہو رہی ہے، مریم کے باہر جانے کا حکومت کو فائدہ ہے۔شوکت ترین

اچھے ایکسپرٹ ہیں وہ وزیر خزانہ نہیں بن سکتے۔ان پر نیب کیسز چل رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو جہانگیر ترین پر بہت غصہ ہے کہ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دلوائے۔جہانگیر ترین پر یہ بھی غصہ ہے کہ ان کا شہبازشریف سے رابطہ ہے۔دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج نے چینی سکینڈل کیس میں جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے دونوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ جہانگیر ترین اور علی ترین اپنے وکلاء کے ہمراہ سیشن عدالت میں پیش ہوئے اورعبوری ضمانتوں کی درخواستیں دائر کیں۔ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے ابتدائی سماعت کے بعدجہانگیر ترین اور علی ترین کو 10 اپریل تک گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ۔جہانگیر ترین اور علی ترین دوسرے کیس میں ضمانت کے لیے بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے۔بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے

عوض عبوری ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔عدالت نے ایف آئی اے کو دونوں کو 7 اپریل تک گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔عدالت میں پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر

اور میرے بیٹے پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ،مالیاتی امور میں صاف اور شفاف ہوں۔لگتا ہے کہ منصوبے کے تحت چیزیں لیک کی جاتی ہیں،دو دن بعد کچھ ہونا ہوتا ہے اسے لیک کر کے میڈیا کو دے دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اثاثوں کی مکمل منی ٹریل موجود ہے ،یہ میری

عادت نہیں کہ کسی چیز سے لاتعلقی کا اظہار کروں۔ مجھ پر مقدمہ ہے اور ہم عدالت میں پیش ہو گئے ہیں،ہم عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں گے اور سرخروہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے فیصلوں سے متعلق تحقیقات ایس ای سی پی اور ایف بی آر کا کام ہے ،تینوں مقدمات سے

ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقدمات میں چینی کی قیمت بڑھنے کا کوئی تعلق نہیں، 6 سے 10 سال پہلے کی کمپنی کے فیصلوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ان فیصلوں کو چیلنج کرنا ایف آئی ئی اے کا کام نہیں ہے، جان بوجھ کر ایف آئی اے کو کیس دیا گیا ہے،منی لانڈرنگ کا ایک لفظ ڈال کر اس کو کریمنل کیس بنا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…