اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

’’رینٹل مارچ‘‘ اور ’’عورت مارچ‘‘ والے سینٹ میں’’ کوئیک مارچ ‘‘ ہوگئے، چپقلش کی وجہ سے پی ڈی ایم میں رواداری ختم، حافظ حسین احمد کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 26  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی چپقلش کی وجہ سے اب پی ڈی ایم میں’’رواداری‘‘ نہیں رہی، 26مارچ کو نہ’’ رینٹل مارچ‘‘ ہوسکا اور نہ نیب کے خلاف ’’عورت مارچ ‘‘ البتہ سینٹ میں پی ڈی ایم ’’کوئیک مارچ‘‘

ہوگئی ہے۔وہ جمعہ کے روزکوئٹہ سے اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پرمولانا احمد شیرانی ، مولوی محمد رمضان ، مولوی عبدالکریم ، ظفر حسین بلوچ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد پی ڈی ایم اتحاد کی بوسیدہ گدڑی کوشش کے باوجود چھلنی ہوتی جارہی ہے اس سلسلے میں پی ڈی ایم کے سربراہ کی رفوگری بھی کارگر ثابت نہیں ہورہی ،انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ جے یو آئی (ایف) نے مسلم لیگ ن کے اعظم نذیر تارڑکو ووٹ نہ دیکر ایم ایم اے کی یاد تازہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا یا سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کی شکست کا بدلہ مسلم لیگ ن سے لیا کیوں کہ سینٹ کی شکست کا بدلہ سینٹ میں ہی لیا جاسکتا ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے بارے میں ’’نیوٹرل‘‘ ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی حالت اس وقت انتہائی قابل رحم ہے البتہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کاش وہ اپنے مخلصین کے مشوروں پر عمل پیرا ہوتے اب بھی وقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے بجائے جمعیت علماء اسلام پاکستان میں آجائیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اب عوام خصوصاً جے یو آئی ( ایف) کے کارکنوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جن خدشات کا اظہار پارٹی کے اجلاسوں میں گذشتہ ڈھائی

سال سے جو بانی ارکان کرتے رہے ہیں نہ صرف ان کو نظر اندازکیااور اداروں کے فیصلوں سے انحراف کیا گیا بلکہ ان مخلص ترین شخصیات کو اسٹیبلشمنٹ اور یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دیکر ان کے لیے گڑھا کھودنے کی کوشش کی گئی اس کا انجام اب سب کے سامنے ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…