جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’رینٹل مارچ‘‘ اور ’’عورت مارچ‘‘ والے سینٹ میں’’ کوئیک مارچ ‘‘ ہوگئے، چپقلش کی وجہ سے پی ڈی ایم میں رواداری ختم، حافظ حسین احمد کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 26  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی چپقلش کی وجہ سے اب پی ڈی ایم میں’’رواداری‘‘ نہیں رہی، 26مارچ کو نہ’’ رینٹل مارچ‘‘ ہوسکا اور نہ نیب کے خلاف ’’عورت مارچ ‘‘ البتہ سینٹ میں پی ڈی ایم ’’کوئیک مارچ‘‘

ہوگئی ہے۔وہ جمعہ کے روزکوئٹہ سے اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پرمولانا احمد شیرانی ، مولوی محمد رمضان ، مولوی عبدالکریم ، ظفر حسین بلوچ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد پی ڈی ایم اتحاد کی بوسیدہ گدڑی کوشش کے باوجود چھلنی ہوتی جارہی ہے اس سلسلے میں پی ڈی ایم کے سربراہ کی رفوگری بھی کارگر ثابت نہیں ہورہی ،انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ جے یو آئی (ایف) نے مسلم لیگ ن کے اعظم نذیر تارڑکو ووٹ نہ دیکر ایم ایم اے کی یاد تازہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا یا سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین کی شکست کا بدلہ مسلم لیگ ن سے لیا کیوں کہ سینٹ کی شکست کا بدلہ سینٹ میں ہی لیا جاسکتا ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے بارے میں ’’نیوٹرل‘‘ ہے،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی حالت اس وقت انتہائی قابل رحم ہے البتہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کاش وہ اپنے مخلصین کے مشوروں پر عمل پیرا ہوتے اب بھی وقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے بجائے جمعیت علماء اسلام پاکستان میں آجائیں، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اب عوام خصوصاً جے یو آئی ( ایف) کے کارکنوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جن خدشات کا اظہار پارٹی کے اجلاسوں میں گذشتہ ڈھائی

سال سے جو بانی ارکان کرتے رہے ہیں نہ صرف ان کو نظر اندازکیااور اداروں کے فیصلوں سے انحراف کیا گیا بلکہ ان مخلص ترین شخصیات کو اسٹیبلشمنٹ اور یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دیکر ان کے لیے گڑھا کھودنے کی کوشش کی گئی اس کا انجام اب سب کے سامنے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…