جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی ہوشیاری سے استعفوں کو بھی رینٹل مارچ سے نتھی کردیا گیا تاکہ التوا کا تمام کا تمام ملبہ صرف پیپلزپارٹی کے سر تھوپ دیا جائے ،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 19  مارچ‬‮  2021 |

کوئٹہ/اسلام آباد/کراچی (آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے 26مارچ کے مجوزہ رینٹل مارچ کے حوالے سے نامکمل تیاری عوام کی عدم تعاون و دلچسپی کو بھانپتے ہوئے بڑی ہوشیاری سے 16 مارچ کوپی ڈی ایم کے اجلاس میں استعفوں کو بھی اس

رینٹل مارچ سے نتھی کردیا گیا تاکہ 26مارچ کے رینٹل مارچ کی التوا کا تمام کا تمام ملبہ صرف پیپلزپارٹی کے سر تھوپ دیا جائے وہ جمعہ کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں وائس آف لندن اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے المنا ک انجام اور چودھری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کی یقین دہانی پر آزادی مارچ کے خاتمے سے کارکن اور عوام مایوس ہوئے تھے جبکہ رینٹل مارچ کے حوالے سے جان جے یو آئی کی اور مال ملکی خزانے لوٹنے والوں کا اور مجوزہ رینٹل مارچ میں بھی اسی فارمولے کے تحت سودا طے ہواہے، انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر 2020ء کے اجلاس میں استعفے اور لانگ مارچ دو الگ الگ آپشن تھے ان دونوں کو ایک سازش کے تحت اس لیے یکجا کر دیا گیاکیونکہ پی ڈی ایم کی قیادت کو معلوم تھا کہ پیپلزپارٹی کسی صورت استعفوں کی طرف نہیں آئے گی تو 26مارچ کے رینٹل مارچ کے التوا کا سارا کا سارا ملبہ بڑی آسانی سے پیپلزپارٹی کے سر تھوپ دیا جائے گا اور پیپلزپارٹی کیخلاف اس گھناؤنی سازش میں لندن کے بھگوڑے کے خفیہ پلان کا بھی بھر پور کردا ر شامل تھا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی کے علاوہ باقی 9 جماعتیں عمرانی حکومت گرانے میں واقعی مخلص ہیں تو وہ اسمبلیوں کو داغ مفارقت

دینے کی ہمت تو کریں دراصل پی ڈی ایم کی قیادت اسی اسمبلیوں سے صدر پاکستان، چیئرمین سینٹ، ڈپٹی چیرمین سینٹ اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بننے کے لیے بے تاب تھے مگر اب باقی 9 پارٹیوں کو مستعفی ہو نے سے کس نے روکا ہے اصل معاملہ یہ ہے کہ ان کے اپنے ارکان اسمبلی مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں ہیںجس کی مثال مسلم لیگ ن کے ان 2 ارکان قومی اسمبلی کی ہے جن کے استعفے اسپیکر کے پاس پہنچ گئے اور مریم نواز کے حکم کے باوجود انہوں نے استعفے واپس لے لئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…