جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعدپی ڈی ایم قیادت کا رویہ جارحانہ ، حکمت عملی سامنے آگئی ، حکومتی صفوں میں ہلچل

datetime 15  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، آن لائن)پی ڈی ایم نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے نتائج کے بعد دو رخی پالیسی اختیارکرنے کا فیصلہ کیا ہے،روزنامہ جنگ میں صالح ظافر کی شائع خبر کے مطابق آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف سینیٹ میں عدم اعتماد کی پالیسی

پربھی کام شروع کردیا جائے گا۔زرائع نے بتایا ہے کہ سینیٹر فاروق ایچ نائک،سینیٹر نیئربخاری،سینیٹر لطیف کھوسہ اور میاں رضا ربانی کی معاونت سے پٹیشن ڈرافٹ کریں گے۔میاں رضا ربانی اور سینیٹر فاروق نے بحیثیت چیرمین سینیٹ اور وزیر قانون کے خدمات سرانجام دی ہیں، میاں رضا ربانی کو 18ویں ترمیم کا آرکیٹیکٹ کہا جاتا جو کے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس کرائی گئی تھی۔دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک کا سربراہی اجلاس کل ہوگا،اجلاس میں 26مارچ کے لانگ مارچ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا ہنگامی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیرصدار ت دوپہر دو بجے شروع ہو گا ، اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں ملک کی سیاسی صورت حال پر مشاور ت کی جائے گی، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست پر تمام جماعتیں اپنی اپنی رپورٹ پیش کریں گی، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن 7 ووٹ کیسے مسترد ہوئے قائدین کو اعتماد میں لیا جائے گا۔اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین کو کم ووٹ ملنے

پر بھی جے یوآئی کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ اجلاس میں 26مارچ کے لانگ مارچ کی حکمت عملی کو بھی حتمی شکل دی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم جماعتوں کو اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز تمام جماعتوں کے سربراہوں کو بھجوا دی ہے

پی ڈی ایم سربراہ نے تجویز دی ہے کہ لانگ مارچ کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفے بھی دینے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ استعفوں کے ساتھ ہی لانگ مارچ موثرہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…