عمران نیازی نے خاتون اسمبلی رکن پر حملہ کر ا کے تمام اخلاقی حدیں پار کر دیں،احسن اقبال کا سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

  اتوار‬‮ 7 مارچ‬‮ 2021  |  23:25

بدوملہی (آن لائن ) سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز سے اخلاقیات کے مبلغ مفتی عمران خان نیازی بھاشن دے رہے ہیں سیاست میں پیسہ نہیں چلنا چاہئے سیاست میں اخلاقیات ہونی چاہئے ان سے پوچھنا چاہتا ہوں اس اخلاقیات پر خود کتنا عمل کر رہے ہیں عمران نیازی اس بارے میں چمپئن ہو گئے ہیںجہاں ان کے مفاد پر چوٹ پڑتی ہے وہ پورے نظام کو بدنام کرنے کی کسر نہیں چھوڑتے جہاں مفاد نظر آتا ہے تو وہی اصول جن کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں اٹھا کر گٹر میں


پھینک دیتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا سوال کرتا ہوں آپ الیکشن کمیشن سے کہ رہے ہیں خفیہ ایجنسیوںسے معلومات لیں سینٹ میں کتنا پیسہ چلا ہے تمام ایجنسیاں آپ کے ماتحت ہیں کیا آپ نے ان ایجنسیوں نے معلومات لیں وہ کون سے 16 اراکین تھے جن کو پی ٹی آئی کے انہوں نے خود بیچ دیا آپ نے نام نہاد اپنا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان 16 ووٹ بیچنے والوں کو اپنے لئے حلال کر دیا ،احسن اقبال نے کہا کہ آپ پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اب وقت آ گیا ہے قوم آپ سے چھٹکارا حاصل کرے عنقریب لانگ مارچ میں پاکستان کے عوام فیصلہ دیں گے آپ کی حکومت کو مسترد کر چکے ہیں اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے جو غنڈہ گردی کی ہے دنیا مذمت کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے پاکستان کی سیاست میں سپورٹس مین سپرٹ کی تعلیم دیں انہوں نے ایسی کھیپ تیار کی ہے جس کا مشاہدہ 2014 قوم نے کیا تھا سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن نے کہا کہ عمران نیازی نے خاتون اسمبلی رکن مریم اور نگزیب پر حملہ کر کے تمام اخلاقی حدیں پار کر دیں ہیں پی ٹی ائی کے قائدین کو بتانا چاہتا ہوں انکےروئیے نہ رکے تو مسلم لیگ ن کے کارکنان بپھر جائیں گیاافسوس ہے عمران نیازی نے 24 گھنٹے کے باوجود اس واقعے کی مذمت نہیں کی ہے وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں اس غنڈہ گردی کا نوٹس لیں تمام فوٹیج موجود ہے اگر ان کرداروں کو سزا نہ دی جائے گی تو یہ فساد ملک کے چپے چپے میں پھیلے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎