پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خواجہ آصف اور مجھے پارٹی چھوڑنے کی وارننگ دی گئی تھی، ایاز صادق اپنے ساتھی خواجہ آصف کی گرفتاری پر بول پڑے

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے آنے والے دباؤ بارے قیادت کو آگاہ کر دیا تھا اور جب وقت آئے گا تو خواجہ آصف خود ہی بتائیں گے انہیں کس نے پارٹی چھوڑنے کیلئے کہا تھا،میرے سمیت اور لوگوں کو بھی پارٹی چھوڑنے کیلئے کہا گیا،خدا کا واسطہ ہے آپ لوگ شیخ رشید کو سنجیدہ لیتے ہیں؟۔ مسلم لیگ (ن)

کے مرکزی رہنما سردار ایاز صادق نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کو ایک ماہ پہلے جماعت کوچھوڑنے کی وارننگ مل چکی تھی لیکن انہوں نے جماعت کو نہیں چھوڑ، خواجہ آصف نے قیادت کو اس حوالے سے آگاہ بھی کر دیا تھا،خواجہ آصف نے جماعت چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 3 دہائیاں گزار دی ہیں یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔ انہوں نے شیخ رشید کی جانب سے نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ خدا کا واسطہ ہے، آپ لوگ شیخ رشید کو سنجیدہ لیتے ہیں؟شیخ رشید کو جس نے وزیر داخلہ بنایا ہے اس کی عقل کو بھی سلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی پارٹی چھوڑنے کیلئے کہا گیا ہے،کوشش کے باوجود فارورڈ بلاک نہیں بن سکا، کوئی اس کا حصہ بننے اور قیادت کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قت سدا ایک جیسا نہیں رہتا، یہ وقت بھی گزر جائے گاان کے منہ کالے ہوں گے اور ہم سرخرو ہوں گے۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جب سیاسی آپشنز ختم ہو جائیں تو پھر سیاسی حریف کا گرفتاری آخری ہتھکنڈے ہوتے ہیں، خواجہ آصف کی گرفتاری عمران خان کے اقتدار کے پچپن کی خواہش ہے،عمران خان چاہتے تھے کہ وہ بہت پہلے گرفتار ہوجاتے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے تمام اثاثے ظاہر شدہ ہیں،جب عثمان ڈار نے خواجہ آصف کے خلاف

درخواست دی تو سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کو کلیئر کیا۔نیب راولپنڈی نے خواجہ آصف کا کیس لینے سے انکار کیا تو لاہور نیب نے ہاں کردی،خواجہ آصف کا کیس بالکل واضح ہے، انہیں قانون کے برعکس گرفتار کیا گیا، دعوے سے کہتا ہوں اس کا ریفرنس بھی نہیں آئے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…