جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

گردشی قرضے میں مزید حیرت انگیز اضافہ، 21 کھرب سے بھی تجاوز کر گیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران گردشی قرضوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 20 کھرب روپے کی سطح عبور کرچکے ہیں۔میڈیا رپور ٹ کے مطابق اپنی اسٹیٹ آف دی انڈسٹری رپورٹ 2020 میں پاور ریگولیٹر نے کہا کہ گردشی قرض جون 2019 کے 10 کھرب 60 ارب روپے کے مقابلے بڑھ کر

رواں برس جون تک 21 کھرب 50 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کووِڈ 19 سے متعلق مسائل نے بھی گردشی قرض بڑھانے میں کردار ادا کیا کیوں کہ عالمی وبا کی وجہ سے نجلی کے بلز کی عدم ادائیگیوں اور بجلی چوری میں اضافہ ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کووِڈ 19 کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوریز میں کمی آئی اور مالی سال 20 میں تمام تقسیم کار کمپنیوں سے حاصل ہونے والی مجموعی ریکوریز 88.77 فیصد رہیں جو مالی سال 19 میں 90.25 فیصد تھیں یعنی رواں سال 1.48 فیصد کمی آئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سرکاری اور نجی صارفین کی وصولی کے ساتھ ساتھ سبسڈی کی تاخیر سے ادائیگی گردشی قرضوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔نیپرا نے بتایا کہ بجلی چوری اور بجلی کے بلز کی عدم ادائیگی کی بڑی وجوہات میں سے ایک بجلی کی بلند قیمتیں ہیں۔ریگولیٹر نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ پالیسی کی وجہ سے ’ادا کرو یا بجلی لو‘ کی پالیسی والے پاور پلانٹ سے بجلی کی فروخت میں کمی ہورہی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھ رہی ہے۔ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اسی لیے تقسیم کار کمپنی کو گورننس بہتر بنانے اور ہائی ٹرانسمیشن والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کے بجائے بجلی چوروں اور نادہندگان کو فراہمی بند کرنے کی ضرورت ہے۔بجلی کے مہنگے نرخوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیپرا نے کہا کہ بجلی کی مہنگی لاگت،

ناقص تقسیم کار سروسز اور ہائی لاسز والے فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کی پالیسی صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے دور کررہی ہے۔بجلی کی پیداوار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس ملک میں نصب بجلی کی پیداواری صلاحیت 38 ہزار 719 میگا واٹ تھی جبکہ گزشتہ برس یہ سطح 38 ہزار 995 میگا واٹتھی یعنی 276 میگا واٹ کی کمی واقع ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ

لوڈ شیڈنگ کی پالیسی صارفین کو چھوٹے گیس یا ڈیزل جنریٹرز کے ساتھ ساتھ یو پی ایس کا استعمال کرنے پر مجبور کررہی ہے جس سے معیشت میں قابل قدر وسائل کی مؤثر تخصیص میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاور پلانٹ کو گیس مختص کرنے اور اس کی فراہمی متعلقہ اداروں کے درمیان اچھی طرح مربوط نہیں ہے اور متعدد مواقعوں پر گیس

کم صلاحیت والے پاور پلانٹس کو دی جاتی رہی،باصلاحیت پاور پلانٹس گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے کم یا بالکل استعمال نہیں ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طلب پوری کرنے کی پیداواری صلاحیت دستیاب ہونے کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے فیڈر کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداواری صلاحت دگنی ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…