پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

10 سال بعد کویت کے دروازے پاکستانیوں کیلئے کھل گئے، ایک لاکھ پاکستانیوں کو کویت بھیجنے کی تیاریاں

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ این این آئی) وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کویت حکومت سے رابطہ کر کے باضابطہ درخواست کی گئی ہے جس پر مثبت ردعمل متوقع ہے۔پاکستان نے تقریبا ً ایک لاکھ ہنرمند افرادی قوت کویت بھیجنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جس کا مقصد اپنی ترسیلات زر کو بڑھانا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک سے ہنر مند

افرادی قوت کی بر آمد کے لئے کویت کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کر رکھے ہیں جس سے ان کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔یاد رہے کہ معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے حال ہی میں ابو ظہبی ڈائیلاگ کے پانچویں سیشن کے دوران کویت کے وزیر محنت سے علیحدہ ملاقات بھی کی تھی۔یاد رہے کہ ایک انٹرویو کے دوران معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہاتھا کہ کویت کے ساتھ لیبر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ایک انٹرویومیں زلفی بخاری نے کہا تھا کہ گزشتہ 10 سال سے کوئی پاکستانی بطور لیبر کویت نہیں گیا، اب کویت کے ساتھ بھی لیبر سے متعلق معاہدے ہو رہے ہیں، لیبر کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے معاہدے ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ یو اے ای سے واپس آئے ہیں، انھیں بھی اب آہستہ آہستہ یو اے ای واپس بلا لیا جائے گا، یو اے ای حکام کی کوشش ہے کہ لوگوں کو آہستہ آہستہ واپس بلایا جائے، اس سلسلے میں کرونا میں کمی کے بعد یو اے ای حکام نے سب سے پہلے مجھے طلب کیا۔زلفی بخاری نے کہا تھا کہ کرونا وبا کے دوران بیرون ملک سے 4 لاکھ پاکستانی واپس آئے ہیں، ان میں سے 2 لاکھ تو طلبہ تھے، 50 ہزار بیرون ملک سے ایسے پاکستانی آئے جن کو چھٹیاں دی گئیں، اب کوشش ہے کہ جن پاکستانیوں کو چھٹیاں دی گئیں انھیں واپس بلایا جائے۔معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے

لیے بھی معاہدے کیے جا رہے ہیں، سرمایہ کاری میں درپیش مسائل ختم کیے جا رہے ہیں، ایف بی آر کی جانب سے جو مسائل تھے انھیں بھی دور کیا جا رہا ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے کوئی پاکستانی بطور لیبر کویت نہیں گیا، اب کویت کے ساتھ بھی لیبر سے متعلق معاہدے ہو رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…