حکومت کو لانے والوں نے مارچ میں بساط لپیٹنے کا وعدہ کیا تھا،فضل الرحمان کا حیرت انگیز انکشاف

  ہفتہ‬‮ 15 اگست‬‮ 2020  |  21:08

پشاور(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت کو لانے والوں نے مارچ میں بساط لپیٹنے کا وعدہ کیا تھا، اپوزیشن جماعتوں سے اے پی سی یا حکومت مخالف تحریک پر نہیں بعض امور پر اختلاف ہے، اب تذبذب سے نکلنا ہوگا اور یکسو ہونا ہوگا،متحدہ عرب امارات کے بادشاہ برائے نام ہیں اور اس ریاست کی اصل ملکیت امریکا کے پاس ہے،اگر اقوام متحدہ کشمیر پرپاکستان کے موقف کے خلاف قرارداد لائے تو پھر پاکستان کیا کرے گا،عالمی قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اس


حکومت کو لائی ہیں۔ ہفتہ کو جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن باچاخان مرکز پشاور پہنچے اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین سے ان کے بھائی میاں سریرحسین کے انتقال پرتعزیت اورفاتحہ خوانی کی۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے اے پی سی یا حکومت مخالف تحریک پر اختلافات نہیں لیکن بعض امور پر اختلاف ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک طرف تو ہم اسے ناجائز حکومت کہتے ہیں اور نئے الیکشن کا مطالبہ بھی کرتے ہیں دوسری طرف بڑی اپوزیشن پارٹیاں حسب ضرورت حکومت کو ووٹ دیتی ہیں، یہ تضاد ہے اور اس روش کو ترک کرنا چاہیے، قول و فعل میں تضاد سے ہم عوام کا اعتماد نہیں جیت سکتے، ہمارے رابطے جاری ہیں، لیکن اس تذبذب سے نکلنا ہوگا اور یکسو ہونا ہوگا، تاکہ عوام اپوزیشن کی تحریک پر اعتماد کریں۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق پارلیمنٹ میں حالیہ قانون سے متعلق فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طرف ہم یوم آزادی منارہے ہیں دوسری طرف ایسی قانون سازی کررہے ہیں جو آزادی کی نفی ہے، آج اگر اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد آئے جو پاکستان کے قانون کے خلاف ہو تو ہماری آزادی تو ختم ہوگئی۔فضل الرحمان نے کہا کہ اگر اقوام متحدہاگر ہم سے کہے کہ چند گھنٹوں میں اس مطالبے پر عمل کیا جائے تو ہم تاخیر نہیں کرسکیں گے، اس قرارداد میں رکاوٹ بننے والا شخص قابل سزا ٹہرے گا، کروڑوں کا جرمانہ ہوگا اور قید کی سزا ہوگی، اگر اقوام متحدہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے خلاف قرارداد لائے تو پھر پاکستان کیا کرے گا،عالمی قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اس حکومت کو لائی ہیں، ہمارا بڑی جماعتوں سے شکوہ ہے کہ انہیں اس کی سہولت کاریکا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امارات اور اسرائیل معاہدہ فلسطینیوں کی 70 سالہ جدوجہد آزادی کی نفی ہے، دنیا میں کشمیر اور فلسطین کی جدوجہد آزادی کی قدر و قیمت نہیں، کمزور ممالک کی گردن مروڑ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، یو اے ای کا اقدام درست نہیں اس کی اصل ملکیت امریکا کے پاس ہے، یہ لوگ برائے نام بادشاہ ہیں بلکہ اصل میں بڑی قوتوں کے کٹھ پتلی ہیں، یو اے ای کا عمل نہتو عالم عرب کی نمائندگی ہے نہ امت مسلمہ کا فیصلہ ہے، امت کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے وگرنہ وہ آگے بھی بڑھ سکتے ہیں اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو ضائع کرسکتے ہیں۔حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ جو لوگ اس حکومت کو اقتدار میں لائے ہیں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ میں حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، مارچ تو گزر گیا اب ملین مارچ ہی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ تنہا پرواز نہیں بلکہ اس میں اے این پی ہمارے ساتھ ہوگی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کولائحہ عمل دینے کی ضرورت ہے،کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلانے سے متعلق کوئی اختلاف نہیں، قوم کے سامنے واضح پلان رکھنے کی کوشش کریں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎