جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

8 بڑی سٹیل ملز کے 192 مالکان و خریداروں کا اربوں روپے ٹیکس چوری کرنے کا انکشاف،ایف بی آر حرکت میں آ گیا

datetime 8  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)بی ایف آر نے آٹھ بڑی سٹیل ملز کے مالکان کی طرف سے ایس آر او 565 کی چھتری تلے سالانہ 50ارب روپے سے زائد کا ٹیکس چوری کرنیوالوں کو خریداروں سمیت نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ ایف بی آر نے 192 خریداروں کو نئے نوٹسز جاری کیے ہیں۔دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ آئی ایس ایل اور بی بی جے پائیپس نے اٹھایا ہے دیگر کمپنیوں میں عائشہ سٹیل کراچی، اے ایچ این لاہور،

بی بی جے سٹیل لاہور، ایم اے بی اسلام آباد، روبی سٹیل لاہور اور اجمیر سٹیل لاہور شامل ہیں۔ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق کمپنیا ں چھوٹے چھوٹے دکانداروں کو کروڑوں روپے مالی کی فروخت کی رسیدیں تیار کرتے رہے اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خریدار اتنا مال خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن ایس آر او 565 کا فائدہ اٹھا کر اربوں روپے کا ٹیکس بچانے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔ ایس آر او 565سے فائدہ اٹھانے والے یہ وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان سٹیل ملز تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور چھوٹی صنعتیں بندش کے بالکل قریب ہیں جس کی وجہ سے دس لاکھ لوگوں کے بیروز گار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوچکا ہے۔ مزید برآں ان کمپنی مالکان نے ایس آر او 565 کے ذریعے بچائے گئے ٹیکس کو ہضم کرنے کے لئے اب حکومت میں بیٹھے ہوئے اپنے سرپرستوں کے ذریعے یہ کوشش شروع ردی ہے کہ مذکورہ قانون کی دفعہ4کو ختم کردیا جائے تاکہ ماضی میں ہونیوالی تمام کرپشن محفوظ ہو جائے اور کوئی بھی ادارہ اس حوالے سے پوچھ گچھ نہ کرسکے۔ذرائع کے مطابق ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 26 اور 26اے کے تحت یہ ساری معلومات اکٹھی کی ہیں۔ ایف بی آر اسلام آباد کی طرف سے ایسی تمام کمپنیوں کا آڈٹ کرنے کے احکامات بھی دے دیئے ہیں جو ایس آر او 565 کے تحت مال تیار کرتی رہی ہیں۔اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان سٹیل پائپ لائن انڈسٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ضروری معلومات بھی حاصل کی ہیں کہ ایس آر او 565 سے فائدہ اٹھانے والوں نے ایک طرف قومی خزانے کو کیسے نقصان پہنچایا اور دوسری طرف چھوٹے صنعت کاروں کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…