پائلٹ کو بتایا گیا دونوں رن وے کلیئر ہیں،پائلٹ نے خود فضا میں چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا، چیئرمین پی آئی اے حقیقت سامنے لے آئے

  جمعہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2020  |  18:59

کراچی (آن لائن) سی ای او پی آئی اے کا طیارہ حادثہ سے متعلق اہم بیان سامنے آیا ہے۔ارشد ملک کا کہنا ہے کہ آج کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے۔اے ٹی سی کی طرف سے پائلٹ کو کہا گیا ہے کہ دونوں رن وے خالی ہیں۔اے ٹی سی نے کہا کہ کسی بھی رن وے پر لینڈ کر سکتے ہیں۔پائلٹ نے گو راؤنڈ جانے کا فیصلہ کیا۔پائلٹ نے کہا کہ جہاز میں ٹیکنیکل مسئلہ ہے۔جہاز میں کیا ٹیکنیکل مسئلہ ہوا تھا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد جہاز میں خرابی کا پتہ چل سکے


گا۔چیئرمین پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ پائلٹ کو بتایا گیا کہ دونوں رن وے کھلے ہیں لیکن پائلٹ نے فضاء میں چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ کیا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈں گ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔ طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎