بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی ایم سے مذاکرات اپنی جگہ، کوئی قانون توڑے گا تو گرفتار کیا جائیگا، وزیر داخلہ نے وزیراعظم عمران خان کا موقف بھی پیش کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیرِ برائے داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے مذاکرات اپنی جگہ لیکن اگر کوئی ملک کا قانون توڑے گا تو انھیں گرفتار کیا جائے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ پاکستانی شہری ہیں انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہے۔ اسی لیے ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جہاں تک پختونوں کی بات ہے، پختون اس حکومت کے ساتھ ہیں۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر آپ ملک کا قانون توڑیں گے، تو آپ کو گرفتار کیا جائے گا۔ انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہوگا تبھی ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔مذاکرات کی بات پر وفاقی وزیر برائے داخلہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو ٹیبل پر آئیں۔ جنگ سے، لڑائی سے کوئی چیز حل نہیں ہوتی۔ اور یہ ملک کے لیے، قبائل کے لیے اور برادری کے لیے اچھا ہے۔پاکستان کے پختونوں کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک بات ہے پختونوں کی۔ تو ہماری جماعت کی دو تہائی اکثریت ہے۔ عمران خان پختونوں اور قبائلی علاقوں میں اپنے ضلعے سے زیادہ مشہور ہیں۔ جو انھوں نے سابق قبائلی علاقوں کے انضمام اور پختونوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے بارے میں کیا ہے وہ کسی اور سیاسی رہنما نے نہیں کیا۔ تو رہنما کون ہوا پشتین یا عمران خان؟لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک پی ٹی ایم پرامن طریقے سے ملک بھر میں احتجاج کرتی آئی ہے۔ تو جب ان سے مذاکرات کی باتیں ہو ہی رہی ہیں تو ان سے ٹیبل پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ اس پر اعجاز شاہ نے کہا ٹیبل پر بھی بات ہو رہی ہے۔ اب میں آپ سے ٹیبل پر بات کررہا ہوں، آپ جا کر ایک آدمی کا قتل کر آئیں یا کوئی جرم کرلیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ مجھ سے بات کر رہی ہیں، تو میں آپ کو پکڑوں ہی نہیں؟ قانون ساز اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ جو بات کرنے والے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ اگر وہ غلط کام کریں گے تو پکڑے جائیں گے۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ

میں یہ نہیں کہہ رہا خدانخواستہ کہ انھوں نے کسی کا قتل کیا ہے۔ میں مثال دے رہا ہوں۔ ان کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں مقدمہ درج ہوا ہے جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کل پرسوں جو ان کے دوسرے رکنِ قومی اسمبلی ہیں، وہ بہت اچھے انسان ہیں، وہ ملک اور اداروں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کررہے تھے۔ اور ان کو پکڑ لیا گیا، یہ کل کی بات ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ بھی ہے۔ لیکن یہ طریقہ غلط ہے۔ وہ غلط طریقے سے احتجاج کر رہے تھے۔ عدالتیں آزاد ہیں،عدالتیں مقدمے کا فیصلہ کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…